میری پونجی — Page 26
حضرت سردار مصباح الدین احمد صاحب غفر الله له سابق مبلغ انگلستان مکرم سردار مصباح الدین احمد صاحب غفر اللہ لہ صاحب کشف و رویا، مستجاب الدعوات بزرگ تھے۔زہد و تقویٰ، عبادت وریاضت انکی روح کی غذا تھی۔انکے خاندان کا سلسلہ بزرگان دین سہروردیہ سے تعلق رکھتا ہے، اُن کے دادا اسہروردی امیر بخش صاحب علم و حکمت اور معرفت میں ایک مقام اور مرتبہ رکھتے تھے اور والد بزرگوار حکیم مہتاب الدین سہر وردی بھی ایک روشن ضمیر اور درویش صفت بزرگ تھے۔حنفی مسلک رکھتے تھے اور ذریعہ معاش حکمت اور زمیندارہ تھا۔محترم سردار صاحب بتا یا کرتے تھے کہ اپنے بزرگوں سے سن رکھا ہے کہ ہمارے اسلاف عربی النسل تھے اور حضرت عکاشہ جد اعلیٰ تھے۔جو مکہ میں پلے بڑھے، ہجرت مدینہ سے قبل دولت اسلام سے بہرہ ور ہوئے۔ہجرت مدینہ کا ارشاد نبوی صلی شمالی تم ہوا تو حضرت عکاشہ دیگر قدح خواران توحید کے ہمراہ سر زمین یثرب میں وارد ہوئے۔غیر معمولی جرات و شجاعت کے مالک تھے۔غزوات میں شامل ہوئے۔جنگ بدر میں داد شجاعت دیتے ہوئے جب اُنکی تلوار ٹوٹ گئی تو آنحضور مایش الاسلام نے کھجور کی ایک چھڑی عطا فرمائی، اس سے دشمنوں پر بجلی بن کر گرے۔ایک سریۃ میں آنحضرت سلیم نے چالیس صحابہ پر مشتمل قبیلہ بنی اسد کے خلاف ایک مہم میں حضرت عکاشہ کو افسر مقررفرمایا۔ایک مرتبہ سرور کائنات، فخر موجودات حضرت محمد مصطفی صلی یا پی ایم نے ایک مجلس میں فرمایا کہ میری امت میں ستر ہزار لوگ بغیر حساب کتاب جنت میں جائیں گے، اس پر حضرت عکاشہ نے عرض کیا یا رسول اللہ مان لیا ایلیم دعا کریں کہ خدا تعالیٰ مجھے بھی ان لوگوں میں سے کر دے۔آپ مالی ملی ای ایم نے اسی وقت دعا کی کہ اے خدا تو اپنے فضل سے عکاشہ کو بھی ان لوگوں میں شامل کر (26)