میری پونجی — Page 276
بیوی بچے کافی عرصہ ساتھ رہے اور بعد میں بھی اُن کی خدمت میں پیش پیش رہے، تو قدرتی بات ہے پھر ایک ہی بیٹا جو اپنے ماں باپ کا خدمت گزار بھی ہو ،سوامی اباجان کے دل میں بھی اُس کی بہت جگہ تھی۔اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ خالد اور اُسکی بیوی بچوں کو دونوں جہاں میں اپنے ماں باپ کی خدمت کرنے کا بہترین اجر ملے۔آمین۔آخر میں ابا جان کو شوگر نے بہت کمزور کر دیا ، پھر دل کی بھی تکلیف ہو گئی۔ڈیڑھ دو ماہ ہسپتال میں رہے۔بہت ہمت اور جواں مردی سے بیماریوں کا مقابلہ کیا۔بیماری میں بھی دعاؤں پر زور رہا۔اللہ تعالیٰ پر کامل توکل اور بھروسہ کرتے تھے۔درود شریف کا ورد کرتے رہتے۔وہی شخص جو بچپن میں احرار کا جھنڈا اٹھائے جیلوں میں گھوم رہا تھا، اللہ تعالیٰ نے اُسے ایک، نیک دیندار اور اللہ تعالی پر توکل اور تقویٰ سے بھری ہوئی زندگی گزارنے کی توفیق دی۔اُسے سچے خواب دیکھنے کی سعادت ملی۔حضرت مسیح موعود کے جانثار ، خلافت کے پرستار ، دین کو دنیا پر مقدم رکھنے والے، غریبوں کے ہمدرد ، اپنے تمام رشتہ داروں سے پیار کرنے والے، ہمارے بہت ہی مہربان پیارے ابا جان 5 فروری 2003 کو ہمیں چھوڑ کر اپنے بخشش کرنے والے رحمان رحیم اللہ تعالیٰ کے پاس چلے گئے۔ان له وانا الیہ راجعون۔امی جان اور ابا جان دونوں کا جنازہ لندن میں حضرت خلیفہ ایح الرابع" نے پڑھایا اور بوہ میں موجود خلیفہ حضرت خلیفتہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے پڑھایا ، دعا کروائی اور تدفین میں شمولیت فرمائی۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ امی جان و ابا جان کو جنت الفردوس میں اعلی سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔امی ابا جان کی خواہش بھی تھی اور اُن دونوں کی وصیت بھی تھی کہ دونوں بہشتی مقبرہ ربوہ میں مدفون ہوں اللہ تعالیٰ نے اُن کی اس خواہش کو بھی پورا کیا۔اللہ تعالیٰ کی اُن پر ہزاروں ہزار رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں آمین۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی توفیق دے کہ ہم اُن کی بتائی ہوئی نصیحتوں پر عمل کر سکیں آمین۔ہم وہ خوش نصیب بچے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ایسے برگزیدہ والدین عطا کیے۔الحمد للہ۔(276)