میری پونجی — Page 255
اگر بارش ہو تو اُن کے خراب ہونے کا خدشہ ہے۔وہ میری باتوں کو سمجھنے کے بجائے مجھے کو سنے لگا کہ تم اپنے خدا سے کہو کہ بارش برسا دے۔خاکسار اُس کی ہجوسنتا رہا لیکن ساتھ ہی دل ہی دل میں طبیعت دعا کی طرف مائل ہوگئی اور میں نے دعا شروع کر دی۔اسی رات بادل آئے ، گرج چمک ہوئی لیکن بارش نہ ہوئی۔میرے دل میں خدشہ تھا کہ جب کام پر جاؤں گا تو سب سے پہلے اسی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ویسے ہی ہوا کام پر جاتے ہی اُس کا سامنا ہوا اور ساتھ ہی اُس نے طعنہ دیا کہ رات تمہارا خدا گر جا تو بہت لیکن برسا نہیں۔وہ بات بات پر طنز کرتا رہا، اُس نے میرا بیٹھنا محال کر دیا۔دن کے گیارہ بجے کا وقت ہو گا شدید گرمی پڑ رہی تھی۔مجھ پر عجیب کیفیت طاری ہوئی ، اُس کی باتوں سے تنگ آکر باہر نکل گیا اور آسمان کی طرف منہ اُٹھالیا اللہ تعالیٰ کو اُس کی غیرت کا واسطہ دے کر التجا کی کہ اے خداوہ دہر یہ تیری ذات کا منکر ہے اور مجھے طعنے پر طعنے دے رہا ہے۔اب تو ہی اُس کا منہ بند کر۔میری عاجزی کو ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ نہ جانے کہاں سے آسمان پر بادل آئے اور میرے چہرہ پر بارش کے قطرے گرنے لگے۔خاکسار نے پھر التجا کی کہ خدا یا وہ اس طرح کی بارش سے تو نہیں مانے گا زور دار بارش ہو تو شاید اسکا منہ بند ہو جائے۔پھر کیا تھا اتنی زور سے بارش ہوئی اور ساتھ ہوا کے تیز جھونکے چلنے لگے۔دہر یہ اُس وقت برآمدہ میں بیٹھا تھا بارش اور ہوا کے تھپیڑے اُس کے منہ پر جا جا کر لگنے لگے جس پر وہ بے اختیار بول اُٹھا کہ میں مان گیا ہوں کہ تمہارا خدا زندہ ہے اور ساتھ ہی یہ تفریق بھی کر دی کہ ایسا سلوک صرف مرزا صاحب کے ماننے والوں کے ساتھ ہی ہے۔دوسروں کے ساتھ یہ سلوک نہیں ہو سکتا۔ابا جان کہتے ہیں میں نے اُس کی کسی بات کا جواب نہیں دیا میں تو صرف اپنے رب کی حمد اور اُس کے فضلوں اور رحمتوں سے مغلوب ہو کر سجدہ ریز تھا اور حمد کے گیت گا رہا تھا۔ا (255)