میری پونجی — Page 256
حضرت پیر منظور محمد صاحب میں،حضرت پیر منظور محمد صاحب جنہوں نے قاعدہ میسر نا القران لکھا ہے، کی خدمت میں بغرض دعا حاضر ہوا تھا کہ ہماری ملاقات کے دوران ایک اور دوست بھی تشریف لے آئے جو کسی سرکاری محکمہ کے بڑے آفیسر تھے۔انہوں نے بھی کسی خاص مقصد کیلئے دعا کی درخواست کی اور ساتھ ہی کچھ نوٹ پیش کر دیئے۔آپ نے جواب دیا کہ میں دعا تو ضرور کروں گا لیکن یہ رقم آپ اٹھا لیں اور حضرت خلیفہ مسیح کی خدمت میں پیش کریں۔اسلام کی ترقی کیلئے یہ رقم کام آئے گی۔یہ کہہ کر آپ نے ایک خطیر رقم لینے سے انکار کر دیا۔حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب نیر یہ بھی ممبئی کا ہی واقعہ ہے ایک بار چند دوست ساحلِ سمندر کی سیر کو گئے ہوئے تھے۔ہمارے ساتھ نیز صاحب بھی تھے۔میں اور ایک واقف زندگی دوست مکرم لطیف صاحب، مولانا نیر صاحب کے ساتھ ایک دیوار پر بیٹھ گئے۔مکرم نیر صاحب نے ہمیں فرمایا کہ آپ جائیں اور سیر کریں میں یہاں بیٹھ کر آپ کیلئے دعا کروں گا۔پھر ہم سمندر کی سیر کو چلے گئے اور ہمیں محترم مکرم نیر صاحب کی دعائیں لگتی رہیں۔فجز اھم اللہ تعالیٰ۔قائد اعظم محمد علی جناح سے مصافحہ اللہ تعالیٰ نے بن مانگے ہی ہمیشہ مجھے وہ کچھ دیا جس کی ہر انسان دل میں خواہش رکھتا ہے۔ایک دن میں لدھیانہ ریلوے اسٹیشن پر تھا کہ اُس وقت جو ٹرین آئی اُس میں سے قائد اعظم محمد علی جناح تشریف لائے جہاں وہ اور لوگوں کے ساتھ مصافحہ کر رہے تھے وہاں مجھے بھی یہ سعادت حاصل ہوئی کہ میں نے بانی پاکستان اور ایک عظیم مفکر سے ہاتھ ملایا۔(256)