میری پونجی — Page 147
کر نہیں کھاتے تھے کہ شاید اس میں شراب ہو یا وہ گوشت ہو جو ہم نہیں کھا سکتے۔یہاں تک کہ چاکلیٹکو دیکھ کر تو بالکل ہی ہاتھ نہیں لگاتے تھے اور اب میرے سمیت کوئی چا کلیٹ کو چھوڑتا نہیں۔جب میں ائیر پورٹ پر اتری تو بچے نڈھال ہو چکے تھے دل میں میں خود بھی بے حد ڈری ہوئی تھی۔یہ بھی جانتی تھی کہ ائیر پورٹ کے باہر مجھے کوئی لینے نہیں آئیگا۔میں نے خود ہی ہمت کر کے گھر تک جانا ہے۔امیگریشن میں کوئی خاص مشکل نہیں ہوئی۔گھر سے چلتے وقت اباجی (سامی صاحب کے والد صاحب) نے تاکید کی کے سفر میں يَا حَى يَا قَيُّومُ برحمتك استغیث پڑھتے جانا۔میں نے عمل کیا، الحمد للہ اللہ تعالیٰ نے ہر قدم پر مدد فرمائی۔پاکستان سے اور لندن سے کافی سمجھایا ہوا تھا کہ باہر جب نکلو گی تو ٹیکسی کیسی ہوگی اور تم نے کیسے بات کرنی ہے اور پیسے بھی تم نے گھر آکر دینے ہیں۔اللہ کا نام لیا، باہر آئی ٹیکسی والے کو گھر کا ایڈریس دکھایا۔اُس نے ہمیں بہت آرام سے اپنی ٹیکسی میں بٹھا یا۔ہمارے اندر تو پاکستان کی ٹیکسی اور وہاں کے ڈرائیوروں کا ڈر بیٹھا ہوا تھا۔ڈر رہی تھی کہ نہ جانے کیا ہو جائے گا جب کہ انگلش کا مجھے ایک لفظ بھی نہیں آتا تھا۔لندن کے گلی کوچوں سے بھی ناواقف تھی۔اللہ تعالیٰ کا نام لیا اور اُس انجان اجنبی گورے ڈرائیور کے ساتھ چل پڑی۔لیکن اُسی اجنبی گورے نے اتنا ساتھ دیا کہ میرا ایک کاغذ کے ٹکڑے پر لکھا ہوا ایڈریس دیکھ کر مجھے میرے گھر کے دروازے پر جا اُتارا جہاں میرے اپنے سب دروازے کے باہر ہی میرا انتظار کر رہے تھے۔ٹیکسی والے کو اُسکا کرایہ دیا اور شکریہ ادا کیا۔اب آج جس مقام پر میں ہوں سوچتی ہوں کہ اگر ان سب مشکلات کا پہلے سے علم ہوتا تو شاید میں کبھی اتنی ہمت نہ کر پاتی جتنی میں نے چالیس سال پہلے کر لی ہے۔سامی صاحب نے میرے آنے سے پہلے ایک فلیٹ کرایہ پر لیا ہوا تھا۔ہم ایک رات اپنی کزن کے گھر جہاں میرے ابا جان بھی رہتے تھے گزار کر اگلے دن اپنے اُس گھر میں آگئے جو سامی (147)