میری پونجی — Page 148
صاحب نے لیا ہوا تھا۔یہ گھر تین منزلوں پر مشتمل تھا اور نیچے تہہ خانہ بھی رہائش کے قابل تھا۔جن کا یہ گھر تھا تین بچوں کو لیکر وہ فیملی پاکستان جا چکی تھی ( اس نظریہ سے پاکستان گئے تھے کہ بیوی بچے پاکستان میں رہیں گے اور وہ خود واپس آجائیں گے ) اور پورا گھر سامی صاحب کی نگرانی میں دے کر چلے گئے۔جن میں سے اوپر والی دومنزلیں سنگل لڑکوں کو کرایہ پر دی ہوئی تھیں جن کا کرایہ لینا بھی سامی صاحب کی ہی ڈیوٹی تھی۔تہہ خانہ اور فرسٹ فلور ہمارے پاس تھا جس کا کرایہ صرف دو پاؤنڈ ہفتہ کا تھا۔ہم ویز اوغیرہ سے بھی بے فکر تھے کہ ہماری کوئی شکایت نہیں کرے گا اور زندگی آرام سے گزر جائے گی۔لیکن ایسا نہ ہوا ایک دن اچانک پولیس نے دروازہ کھٹکھٹایا اور اُس لڑکے کے بارے میں پوچھا جو اوپر والے فلیٹ میں رہتا تھا۔لڑکے نے جیسے ہی پولیس کی آواز سنی اُس نے پچھلی دیوار سے چھلانگ لگائی اور بھاگ گیا۔پولیس والوں نے سوچا ہوگا جس نے دروازہ کھولا ہے لگے ہاتھوں اس کی جانچ پڑتال کر لیتے ہیں۔سامی صاحب ابھی کام سے آئے ہی تھے۔پولیس والوں نے ان کا پاسپورٹ مانگا دیکھا اور چلے گئے۔ہم ڈر گئے اور کچھ دنوں کے لیے گھر چھوڑ کر دوسرے شہر اپنے کزن کے گھر چلے گئے۔وہاں کتنا رہ سکتے تھے ایک ہفتہ کے بعد گھر آگئے۔بچوں نے سکول جانا شروع کر دیا ہوا تھا اس لیے زیادہ دن گھر سے باہر نہیں رہ سکتے تھے۔لیکن اب ہماری مشکلات اور امتحان کا وقت شروع ہو گیا تھا۔دو ماہ ڈرتے ہوئے گزر گئے کہ اچانک سامی صاحب بیمار ہو گئے۔پہلے تو لگا کہ معمولی سی بات ہوگی مگر ایسا نہ ہوا گلے میں شدید درد اور تیز بخار ہو گیا۔نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ ان کو ہسپتال میں داخل ہونا پڑا۔ابھی اِن کو گئے کچھ دن ہی ہوئے تھے میری بیٹی لبنی کو ملیر یا بخار ہو گیا۔بخار اتنا تیز تھا کہ لبنی کو بھی ہسپتال میں داخل ہونا پڑا۔اس دوران مالک مکان بھی اپنی فیملی کے ساتھ واپس آگئے کہ اُن کے بچے وہاں سیٹل نہیں ہو سکے اور ہم شفٹ ہو کر اُسی گھر میں دوسری منزل پر آگئے۔اب میرے گھر کے دو افراد الگ الگ ہسپتالوں میں پڑے ہیں اور میں باری باری ہسپتالوں کے چکر لگا رہی ہوں۔منیر اور بلال کو کبھی (148)