میری پونجی — Page 12
آپ نے اپنے ولی اللہ والد حضرت شیخ محمد حسن صاحب کے حالات لکھ کر ہم پر احسان کیا ہے۔مجھے ان سے دلی محبت تھی اور وہ بھی مجھے پیار اور خلوص کی نگاہوں سے دیکھتے تھے۔ہم اپنے دفاتر میں بیٹھے کام میں مگن ہوتے تھے تو حضرت شیخ صاحب مرحوم گرم گرم چائے کی کیتلی اُٹھائے ہوئے ہر دفتر میں جا کر سب کو چائے پیش کرتے۔ساتھ میں گرم پکوڑے بھی ہوتے تھے۔یہ کام وہ نہایت خاموشی اور انکساری سے کرتے تھے اور اس بات میں بے حد خوشی محسوس کرتے تھے کہ وہ کارکنانِ سلسلہ کی خدمت کر رہے ہیں۔ایک دفعہ کی بات ہے کہ میں جلسہ سالانہ کے مبارک ایام میں شام کو فارغ ہوا تو خیال آیا کہ لنگر خانہ جا کر حضرت شیخ صاحب کی صحبت میں کچھ وقت گزاروں۔عشاء کی نماز ہو چکی تھی اور تھکے ماندے کارکنان میں سے کچھ سورہے تھے۔پہلے تو خیال آیا کہ جناب شیخ صاحب مرحوم بزرگ آدمی ہیں ، وہ بھی سور ہے ہوں گے۔اس لئے انہیں ڈسٹرب نہ کیا جائے۔میں اس خیال سے واپس جانے کیلئے مڑنے کو تھا کہ اچانک ایک کمرہ سے حضرت شیخ صاحب کی محبت بھری آواز آئی کہ اندر آجائیں۔میں اندر گیا۔دو چار پائیاں بچھی ہوئی تھیں۔ایک پر جناب منصور بی ٹی صاحب محو استراحت تھے اور ایک چارپائی پر آپ ٹیک لگائے نیم دراز تھے۔میں نے دیر سے آنے پر معذرت کی تو ناراضگی کے لہجے میں فرمایا کہ آپ کا آنا تو میرے لئے بابرکت ہے۔آپ کی خدمت کرنے کا موقعہ ملا ہے۔یہ تو میرے لیے انتہائی خوشی کی بات ہے۔پھر مجھے چار پائی پر بٹھا کر اور کمبل اوڑھا کر آپ باہر تشریف لے گئے اور تھوڑی دیر بعد کیتلی ہاتھ میں اُٹھائے تشریف لائے۔چائے کی پیالیاں بھریں اور چار پائی کے نیچے رکھے ہوئے ڈبے سے بسکٹوں کا ایک پیکٹ اُٹھا کر کھولا۔میں حیران ہو ر ہا تھا کہ اس ضعیفی میں بھی انہیں کسی ادنیٰ کارکن کی خدمت کرنے کا کتنا لطف آ رہا ہے۔محترم شیخ صاحب کو اللہ تعالیٰ نے نورانی اور خوبصورت چہرہ عطا کر رکھا تھا۔جو بھی ان سے (12)