میری پونجی — Page 11
جناب مکرم بشیر الدین احمد سامی صاحب مرحوم و مغفور کے حالات زندگی آپ نے جس محبت اور خلوص اور بھر پور جذبات سے لکھے ہیں انہیں پڑھتے ہوئے بارہا میری آنکھیں پرنم ہو گئیں اور میرے دل کی گہرائیوں سے ان کیلئے اور آپ کیلئے دعا ئیں نکلیں۔محترم سامی صاحب مرحوم و مغفور کے ساتھ میرا کم وقت اکٹھے گزرا ہے۔لیکن اس کم وقت میں بھی مجھ پر ان کے بے شمار احسانات ہیں۔میں نے انگلستان کی غالباً پہلی مجلس شعر وسخن" قائم کی تو اس مجلس کو سجانے میں جناب سامی صاحب اور جناب منصور بی ٹی صاحب نے میرا بھر پور ساتھ دیا۔اللہ تعالیٰ ان دونوں کو اپنی جوار رحمت میں جگہ دے۔آمین۔سامی صاحب مرحوم دھیمے مزاج کے کم گو، ایک منتقی اور پارسا انسان تھے۔ان کے چہرہ پر ہمیشہ ایک معصوم سی مسکراہٹ رہتی تھی۔وہ ہر کس و ناکس سے بڑے تپاک سے ملا کرتے تھے۔ان کا کبھی کسی سے جھگڑا یا شکر رنجی نہیں ہوئی۔خلیفہ وقت سے عقیدت و محبت ان کا طرہ امتیاز تھا۔خوش خلق، خوش مزاج اور خوش لباس تھے۔ہمیشہ خوبصورت سوٹ زیب تن رہتا تھا۔کتاب کے اُس حصہ نے مجھے بے حد متاثر کیا جس میں آپ نے ان کے اور بعد میں آپ کے لندن آنے کے حالات لکھے ہیں۔مجھے وہ زمانہ خوب یاد ہے، جب پاکستان سے آنے والوں کو یہاں settle ہونے سے قبل گونا گوں مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔لیکن آپ کی تکالیف، پریشانیوں اور جناب سامی صاحب کے پس دیوار زنداں جانے کے تفصیلی ذکر پڑھ کر میری آنکھیں پرنم ہوتی رہیں اور دل سے دعائیں بھی نکلتی رہیں۔آپ تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک ادیبہ ہیں۔اردو زبان اور اس کے محاورہ پر آپ کو قدرت حاصل ہے۔آپ کی طرز تحریر میں ایک بانکپن ہے جو قاری کو آپ کی منظر کشی میں شامل رکھتا ہے۔میں بھلا آپ کی اس خوبصورت ، فکر انگیز اور ایمان افروز کتاب پر کیا تبصرہ کر سکتا ہوں۔بس جو کچھ میں نے آپ کی کتاب کو پڑھ کر محسوس کیا ہے، اسے الفاظ کا جامہ پہنانے کی کوشش کی ہے۔(11)