میری پونجی — Page 127
میری یونجی کی خرابی کی وجہ سے ریکارڈنگ نہ ہو سکی اور دوسری مشین جو درست حالت میں تھی اس کوفوری طور پر مہیا نہ کیا جاسکا یا اس کو استعمال میں لانے میں کوئی دشواری پیش آئی۔ہر صورت میں کو تاہی عیاں تھی۔حضور نے مزید دریافت فرمایا کہ باہر سے کسی اور دوست نے اس خطاب کو ریکارڈ کیا ہے؟ تو معلوم ہوا کہ بورنیو سے مکرم ڈاکٹر بدرالدین صاحب نے اپنی مشین پر محفوظ کیا تھا اور وہ ربوہ سے کراچی جاچکے ہیں۔ایک دو روز میں ان کا بحری جہاز بورنیو کے لیے روانہ ہو نے والا ہے۔حضرت صاحب کے علم میں جب یہ بات آئی تو دفتر کے ایک کارکن کو ( جن کا نام راقم کو اب یاد نہیں فوری طور پر ریل گاڑی سے کار آمد مشین کے ساتھ کراچی بھجوایا کہ جاؤ اور بدرالدین صاحب کو پکڑو۔چنانچہ وہ دوست کراچی تشریف لائے تو مکرم ڈاکٹر بدرالدین صاحب رخت سفر باندھ رہے تھے۔( اب تو اس دنیا سے رخت سفر باندھے بھی انہیں مدتیں گز گئیں ) مکرم ڈاکٹر صاحب کا بحری جہاز انگلی شام کو بندرگاہ چھوڑ رہا تھا جس پر اُن کا سفر کرنا ضروری تھا۔ورنہ اگلے جہاز کے لیے چار ماہ کراچی میں انتظار کرنا پڑتا۔بہر حال دفتر کے اس کارکن نے ڈاکٹر بدرالدین صاحب کو آلیا جب کہ وہ احمد یہ ہال میں مہمان تھے۔ان کے پاس پچھلا پہر اور رات ہی باقی تھی۔اس میں انہوں نے احمد یہ ہال کی اوپر کی گیلری میں اپنی مشین کو لگایا۔اس طرح یہ معرکتہ الآراء خطاب دفتر والوں کی مشین پر رات بھر میں منتقل ہوا۔یہ عاجز اُن دنوں احمدیہ ہال میں مقیم تھا۔اس لیے مکرم ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ریکارڈنگ کے دوران موجود رہا اور ضرورت کے مطابق مدد بھی کی۔اُسی واسطہ سے یہ عاجز اس واقعہ کا شاہد ہے۔ایسانہ ہوسکتا تو آئندہ آنے والی نسلیں اس عظیم الشان ولولہ انگیز خطاب کو اپنے کانوں سے سننے سے محروم رہ جاتیں۔الفضل ربوہ کے توسط سے اس تاریخی حقیقت کو (127)