میری پونجی — Page 128
رقم کر رہا ہوں کہ اس خطاب کی اصل (ماسٹر کاپی ) مکرم ڈاکٹر بدالدین صاحب کے پاس تھی۔خدا کرے کہ ان کے ورثاء کے پاس اب بھی محفوظ ہو “ (بشیر الدین سامی) (الفضل ربوہ،اا مارچ 1997ء) سامی صاحب 1954ء میں کراچی گئے۔ملازمت کے ساتھ الحمد للہ اُن کو کراچی کی جماعت میں دین کا کام کرنے کی بھی سعادت ملی۔وہ ایک منتظم، معتمد، ناظم مال اور نائب معتمد کی ذمہ داریاں علی الترتیب انجام دیتے رہے۔1954ء میں ہی اُن کو مجلس خدام الا احمد یہ کراچی کا معتمد مقرر کیا گیا۔سامی صاحب کو کراچی میں آٹھ سال دین کی خدمت کا موقعہ ملا۔جس میں اخبار الصلح کے کام کا زمانہ بھی آتا ہے۔چار سال تک متواتر علم انعامی حاصل کرنے کا اعزاز بھی آپ کے دور میں ملتا رہا۔سب سے اہم خدمت اُن کو شعبہ اعتماد میں سر انجام دینے کا موقعہ ملا۔میرے سامنے وہ رپورٹ پڑی ہے جس میں سامی صاحب کو کراچی سے الوداع کرتے وقت سپاس نامہ پیش کیا گیا۔اور اُس میں سامی صاحب کی بے شمار قابلیتوں اور صلاحیتوں کا ذکر ہے اور ایک قائد صاحب کے الفاظ میں: سامی صاحب ایک ایسے عہدہ دار ہیں جن کے سپر د کام کر کے آرام کی نیند سویا جا سکتا ہے“۔الحمد للہ۔سامی صاحب کا کراچی کا ہی ایک خوشگوار واقعہ ہے۔کراچی میں مجلس عاملہ کے چند خدام کو حضرت مصلح موعودؓ کے ساتھ اُن کی میز پر کھانے کا شرف حاصل ہوا۔کہتے ہیں ہم کھانے کی میز پر بیٹھے تھے اور منتظر تھے کہ پیارے آقا کی آمد آمد ہے، آپس میں ہم سر گوشیاں بھی کر رہے تھے کہ اتنے میں ڈرائنگ روم کا پردہ سر کا اور ایک لمحہ بھر میں حضرت صاحب ہمارے درمیان تشریف فرما تھے۔پاؤں میں چونکہ جوتا بھی نہیں پہن رکھا تھا اس لیے آمد کا پتہ نہ چل سکا۔جو کرسی حضور (128)