میری پونجی — Page 126
28 دسمبر 1953ء کی سہ پہرتھی اور 42 ہزار مخلصین کا پر شوکت جم غفیر مکمل سکوت میں گم تھا۔حضرت امام جماعت احمد یہ خلیفتہ اسیح الثانی کی پر جلال آواز سیر روحانی کے موضوع پر نوبت خانوں کی تھاپ کے ساتھ گونج رہی تھی۔دینی نعروں کی پر عظمت تکرار جلوے دکھا رہی تھی۔یہ سب صدا ئیں جلسہ گاہ کے بالمقابل پہاڑ سے ٹکرا کر جب واپس لوٹتی تھیں تو گونج کی صورت میں لوٹ پوٹ ہو جاتی تھیں۔آخر خدا کی نوبت تھی جو آسمانی بادشاہت کے موسیقاروں کے حوالے کی جا رہی تھی۔نوبت پر ضرب پڑتی تھی۔تو اس کی تال سے کان پھٹتے تھے۔پہاڑوں کے دل لرزتے تھے۔اس تجربہ سے وہی نفوس محفوظ ہو سکتے تھے جو اس وقت جلسہ گاہ میں موجود تھے۔یہ پر جلال خطاب آج جماعت کے پاس آڈیو کیسٹ پر محفوظ ہے۔یہ ہم تک آڈیو کیسٹ کی صورت میں کیسے پہنچا ؟ اس حصے کا تاریخی پس منظر، میرے سامنے ہے جس کو قارئین الفضل تک پہنچانے اور تاریخ میں محفوظ کرنے کے لیے یہ چند لفظ تحریر کر رہا ہوں۔اس تاریخی جلسہ کے اختتام کے بعد حضرت امام جماعت احمد یہ خلیفہ السیح الثانی نے دفتر والوں سے دریافت فرمایا کہ کیا انہوں نے آپ کے اس خطاب کو آڈیو پر محفوظ کیا ہے؟ جواب نفی میں ملا۔حیرت تھی تحریک جدید انجمن احمدیہ کے پاس اس وقت ریکارڈ کے لیے دو مشینیں موجود تھیں۔اس کے باوجود یہ تقریر ریکارڈ نہ ہوسکی، ایسی صورت میں حضرت امام جماعت احمد یہ خلیفہ اسیح الثانی کو کس قدر دکھ اور صدمہ ہوا ہو گا خدا بہتر جانتا ہے۔ساری سہولتیں میسر ہونے کے باوجود یہ کوتاہی سرزد ہو چکی تھی۔لیکن اس مشین کی خرابی کی وجہ سے ریکارڈنگ نہ ہو سکی۔اس وقت اس کی وجہ - یہی بیان ہوئی کہ ریکارڈنگ کے لیے ایک مشین جلسہ گاہ میں موجود تھی۔لیکن اس مشین (126)