معراج کا شہرہ آفاق سفر

by Other Authors

Page 48 of 57

معراج کا شہرہ آفاق سفر — Page 48

48 سب سے اوپر گئے تو مقام محمد کی آخری نبوت کا مقام ٹھہرا۔“ حدیث میں ہے کہ اللہ جلشانہ نے معراج کے مبارک سفر کے دوران آنحضرت کو مخاطب کر کے یہ اعزاز بخشا کہ آپ کی امت اولین اور آخرین دونوں گروہوں پر مشتمل ہوگی نیز یہ کہ آپ کو فاتح اور خاتم کے منصب پر فائز کیا۔( تفسیر ابن کثیر تفسیر آیت اسراء ) حضرت امیر المؤمنین شیر خدا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک خطاب عام میں اس فرمان خداوندی کا یہ مفہوم بیان فرمایا کہ الخاتم لما سبق والفاتح لما انغلق “ نہج البلاغہ خطبہ نمبر ۷۲ مطبوعہ بیروت طبع ثانی ۱۹۸۲ء) یعنی پہلے تمام نبیوں کے فیضان ختم ہو گئے آئندہ جو کچھ ملے گا چشمہ محمد ﷺ سے ملے گا کیونکہ آپ فاتح ہیں۔آنحضرت مے خود فرماتے ہیں کہ تقسیم میں کرتا ہوں ، عطا کرنے والا اللہ ہے۔نبیوں کی امامت کا لطیف فلسفہ 4۔حضرت مصلح موعوددؓ تحریر فرماتے ہیں:۔اور یہ جو دکھایا گیا کہ آپ نے سب نبیوں کی امامت کرائی اس میں یہ بتایا گیا تھا کہ آپ کا سلسلہ عربوں سے نکل کر دوسری اقوام میں بھی پھیلنے والا ہے اور سب انبیاء کی امتیں اسلام میں داخل ہوں گی اور یہ اشاعت مدینہ میں نجانے کے بعد ہوگی اور اس میں اس طرف بھی اشارہ تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت المقدس کے علاقہ کی حکومت دی جائے گی۔" ارواح انبیاء سے ملاقات (تفسیر کبیر سورۃ اسراء صفحه 294) 5- روایت میں ہے لقی ارواح الانبیاء (در منثور جلد 4 صفحہ 144 ) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج میں سب نبیوں کی روحوں سے ملاقات فرمائی۔ابن عسا کر جلد اول صفحہ ۳۸۸ میں یہ فیصلہ کن روایت ملتی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے