معراج کا شہرہ آفاق سفر — Page 47
47 اور قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔“ مقام خاتم النبین کی عظیم تجلی سرمه چشم آریہ حاشیہ صفحہ 226 تا 230 ) 3- سلسلہ انبیاء میں خاتم النبیین کا منصب اعلیٰ صرف اور صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا ہوا جس کی عظمت و جلالت نشان کا حقیقی تصور خالق کا ئنات کی طرف سے معراج ہی میں رکھا گیا اور دکھلایا گیا کہ جہاں دوسرے تمام نبیوں کی رفعتیں ختم ہوتی ہیں وہاں سے آپ کا مشام شروع ہوتا ہے جس کے بعد خدائے ذوالعرش ہی کی جلوہ آرائی ہے اس اعتبار سے آپ آخری نبی ہی نہیں آخری انسان بھی آنحضور ہی ہیں چنانچہ آپ ہی کا ارشاد مبارک ہے "انا العاقب الذي ليس بعده احد (مسلم) كتاب الفضائل۔حديث (125) میں عاقب ہوں جس کے بعد کوئی بھی نہیں۔یہاں یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ اصل حدیث یہی ہے اور احد کی بجائے نبی کا لفظ امام زھری کا شامل کردہ ہے اور اس کی تصریح اگلی چند سطروں میں خود حضرت امام مسلم کے ظلم سے موجود ہے۔سیدنا حضرت مصلح موعودؓ نے تفسیر صغیر میں آیت خاتم النبین کی تفسیر کرتے ہوئے سدرۃ المنتہی سے پہلے آسمان تک رونق افروز نبیوں کا نقشہ ” مسند احمد بن حنبل‘ سے دے کر کمال معرفت کے رنگ میں یہ عقدہ کھول دیا ہے کہ اس نقشہ کو دیکھ تو مخلوق کے مقام پر جو شخص کھڑا ہوگا اس کی نظر سب سے پہلے حضرت آدم پر پڑے گی اور سب سے آخر اس کی نظر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑے گی گویا سب نبیوں میں آخری وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قرار دے گا اس کے علاوہ اگر اس حدیث کو لیں کہ آدم ابھی پیدا بھی نہیں ہوا تھا تب بھی میں خاتم النبیین تھا تو بھی شجرہ انبیاء میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام کے لحاظ سے اوپر کی جگہ حاصل ہوگی پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم معراج میں