معراج کا شہرہ آفاق سفر

by Other Authors

Page 49 of 57

معراج کا شہرہ آفاق سفر — Page 49

49 ارشاد فرمایا کہ میں اور جبرائیل بیت المقدس میں اس جگہ پہنچے جہاں سے مجھے معراج ہوا جس میں ارواح عروج کرتی ہیں پھر بتایا کہ اس کے بعد مجھے سب پہلے آدم ملے جن کے سامنے آپ کی ذریت میں ہونے والے مومنوں اور فجار دونوں کی روحیں پیش کی جاتی ہیں۔خدائے علیم و خبیر کو علم تھا کہ ایک زمانہ آنے والا ہے جبکہ نظریہ حیات مسیح کے نتیجہ میں ہزاروں کلمہ گو عیسائیت کا شکار ہو جائیں گے اس لئے اللہ جلشانہ نے بشمول حضرت عیسی سب نبیوں کی ارواح سے ملاقات کرا کے بتادیا کہ دوسرے انبیاء کی طرح آسمان پر حضرت مسیح ناصری کی صرف روح ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قلم مبارک سے معراج کے اس پہلو کی مزید وضاحت سپر دقر طاس کی جاتی ہے۔انبیاء تو سب زندہ ہیں مردہ تو ان میں سے کوئی بھی نہیں۔معراج کی رات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی کی لاش نظر نہ آئی تھی۔۔۔معراج کی رات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام نبیوں کو برابر زندہ پایا اور حضرت عیسی کو حضرت بیٹی کے ساتھ بیٹھے ہوئے پایا۔" ( آئینہ کمالات اسلام ضمیمہ صفحہ 9) آخری زمانہ کے فتن و مفاسد کی خبر -6- روح محمدی کو اس سفر آسمانی میں اپنی امت کے آخرین“ کے زمانہ میں ابھر نے والے فتن و مفاسد کی اس کثرت سے اطلاع دی گئی کہ عقل انسانی ورطہ حیرت میں ڈوب جاتی ہے۔اس سلسلہ میں حضرت علامہ سیوطی کی تغییر در منثور جلد 4 کے مجموعہ روایات پر سرسری نظر ڈالنے سے پتہ چل جاتا ہے کہ شب معراج میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال اور یا جوج ماجوج کو دیکھا ( صفحہ 152 و 155 ) دنیا ایک حسین بڑھیا کی صورت میں نظر آئی۔یہود و نصاریٰ اور سود خود متمثل کر کے دکھلائے گئے کہ آخری دور میں سب عالمی فتنوں کا سر چشمہ یہی لوگ بننے والے تھے۔(صفحہ 142 ، 143 ، 147 ) ابن عساکر (مطبوعہ بیروت) جلد اول صفحه ۳۸۸، ۳۸۹ میں مذکور آنحضرت کی ایک حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ حضور نے معراج میں اپنی امت کے وہ لوگ بھی دیکھے جو حلال کو چھوڑ کر حرام کھائیں گے۔سودی