معراج کا شہرہ آفاق سفر

by Other Authors

Page 44 of 57

معراج کا شہرہ آفاق سفر — Page 44

44 عہد میں ہوئی جیسا کہ اسلام کے شہرہ آفاق مورخ علامہ ابن خلدون نے اس کے حالات میں لکھا ہے۔یہی وہ مسجد ہے جو آج مسجد اقصیٰ کے نام سے دنیا بھر میں مشہور ہے اور اس میں بھی چند ہزار نمازیوں ہی کی گنجائش ہے۔( مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو دائرہ معارف اسلامیہ" پنجاب یونیورسٹی لاہور زیر لفظ قبة الصخرة جلد 18-1 " صفحہ 233-234 طبع اول 1978 ء ) 1938ء میں بیک وقت لیڈن اور لنڈن سے دی انسائیکلو پیڈیا آف اسلام (ENCYCLOPAEDIA OF ISLAM) کی تیسری جلد شائع ہوئی تو اس میں مسجد اقصیٰ کے زیر عنوان صاف طور پر لکھا "ACCORDING TO LATE ARAB WRITERS THE MOSQUE WAS BUILT BY THE CALIPH ABDAL-MALIK” یعنی بعد کے عرب مصنفین کی تحقیق کے مطابق اس مسجد اقصیٰ کے بانی اموی خلیفہ عبدالملک بن مروان تھے۔یہ انسائیکلو پیڈیا متعدد چوٹی کے مستشرقین کی محنت و کاوش کا نتیجہ ہے جسے شہرت یافتہ دانشوروں یعنی دین سنگ (WENSINCK) اور اے۔آر۔گب۔A۔R) GIBB نے مرتب کیا۔اس معلومات افروز کتاب کا دوسرا ایڈیشن 1986ء میں ہالینڈ ، امریکہ اور جرمنی سے بھی منظر عام پر آچکا ہے۔المختصر یہ کہ مسجد اقصیٰ کی تعمیری تاریخ نے معراج کے نورانی سفر اور اس کی عدیم المثال روحانی کیفیات پر گویا دن چڑھا دیا ہے۔اک نظر خدا کے لئے سيد الخلق مصطفی کے لئے مقام قاب قوسین سے جلوہ محمدی 2۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر انکشاف کیا گیا کہ آپ مظہر اتم الوہیت ہیں چنانچہ حضرت مسیح موعود فر ماتے ہیں :-