معراج کا شہرہ آفاق سفر

by Other Authors

Page 43 of 57

معراج کا شہرہ آفاق سفر — Page 43

43 الله مسجد اقصیٰ کی تاریخ کا کھلا ورق حضرت مصلح موعود کی یہ بصیرت افروز تعبیر ایک ناقابل تردید واقعاتی شہادت پر مبنی ہے جو ہمالیہ پہاڑ سے بھی بڑھ کر مستحکم ہے اور جس سے ٹکرا کر سب باطل نظریات و افکار ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں اور وہ شہادت یہ ہے کہ کسی مستند تاریخ میں یہ ذکر نہیں ملتا کہ آنحضرت ﷺ کے عہد میں بیت المقدس شہر میں (جسے یروشلم اور قدس بھی کہا جاتا ہے ) مسجد اقصیٰ کے نام سے یا کسی اور نام سے کوئی مسجد یا عبادت گاہ موجود تھی جس میں ایک لاکھ چوبیس ہزار نبیوں کے لئے آنحضرت ﷺ کی امامت میں نماز ادا کرنے کی وسعت موجود ہو۔امیر المؤمنین سیدنا حضرت عمر بن الخطاب جب 16 ھ میں بیت المقدس تشریف لے گئے تو الصخرہ (جس پر آنحضرتﷺ کے قدم مبارک رکھنے اور آسمان پر چڑھنے کا قصہ مشہور ہے ) نجاست و غلاظت کے نیچے دب چکا تھا۔جس کی وجہ یہ تھی کہ صدیوں قبل شاہ قسطنطین کی والدہ ملکہ میلا نہ (335ء) نے یہود کی مخالفت میں مسخرہ پر قائم عمارت مسمار کر کے اسے گندگی اور کوڑا کرکٹ کے لئے مخصوص کر دیا تھا۔آیت اسراء کی تفسیر میں حضرت ابن کثیر دمشقی (المتوفی ۷۷۴ھ) نے صاف لکھا ہے "كانوا قد جعلوها مزبله من اجلها انها قبلة اليهود۔" حضرت عمر نے اس جگہ کو صاف کرنے کا حکم دیا بلکہ خلیفہ راشد نے خود بھی اپنی قبا کے دامن میں بھر بھر کر مٹی ڈھونا شروع کر دی جس پر آپ کے مقدس قافلہ کے رفقاء اور فوج کے سپہ سالار بھی اس ” وقار عمل میں جوش و خروش سے شریک ہو گئے۔یہاں تک کہ الصخرہ" کی چٹان عیاں ہوگئی۔حضرت عمر نے چٹان کو خوب صاف کیا اور اسی جگہ مسجد بنانے کا ارشاد فرمایا۔حضرت عمر نے چند روزہ قیام کے بعد مرکز اسلام مدینہ میں مراجعت فرمائی اور الصخرہ پر مسجد بنانے کی سعادت اموی بادشاہ عبد الملک بن مروان ( متوفی شوال 288/ اکتوبر 705ء) کو حاصل ہوئی جسے یورپین سکالر مسجد عمر کہتے ہیں لیکن جیسا کہ نامور فرانسیسی محقق لیمان نے ” تمدن عرب میں نشاندہی کی ہے یہ ان کی فاش غلطی ہے۔اس مسجد کو عبد الملک بن مروان نے تعمیر کرایا اور اس کی مزید آرائش و تکمیل اس کے جانشین ولید بن عبد الملک کے دو