معراج کا شہرہ آفاق سفر

by Other Authors

Page 45 of 57

معراج کا شہرہ آفاق سفر — Page 45

45 اور جو تشبیہات قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوخلقی طور پر خداوند قادر مطلق سے دی گئی ہیں ان میں سے ایک یہی آیت ہے۔جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ثم دنی فتدلى فكان قاب قوسین او ادنی۔یعنی وہ (حضرت سید نا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنی ترقیات کا ملہ قرب کی وجہ سے دو قوسوں میں بطور وتر کے واقع ہے بلکہ اس سے نزدیک تر۔اب ظاہر ہے کہ وتر کی طرف اعلیٰ میں قوس الوہیت ہے سو جب کہ نفس پاک محمدی اپنے شدت قرب اور نہایت درجہ کی صفائی کی وجہ سے وتر کی حد سے آگے بڑھا اور رویائے الوہیت سے نزدیک تر ہوا تو اس نا پیدا کنار دریا میں جا پڑا اور الوہیت کے بحر اعظم میں ذرہ بشریت گم ہو گیا۔اور یہ پڑھنا نہ مستحدت اور جدید طور پر بلکہ وہ ازل سے بڑھا ہوا تھا اور ظلی اور مستعار طور پر اس بات کے لائق تھا کہ آسمانی صحیفے اور الہامی تحریر میں اس کو مظہر اتم الوہیت قرار دیں اور آئینہ حق نما اس کو ٹھہر اویں پھر دوسری آیت قرآن شریف کی جس میں یہی تشبیہ نہایت اصلی و اصلی طور پر دی گئی ہے یہ ہے۔ان الذین یبایعونک انما يبايعون الله يد الله فوق ايديهم یعنی جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں۔خدا کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھوں پر ہے۔واضح ہو کہ جو لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرتے تھے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت کیا کرتے تھے اور مردوں کے لئے یہی طریق بیعت کا ہے سو اس جگہ اللہ تعالٰی نے بطریق مجاز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات کو اپنی ذات اقدس ہی قرار دے دیا اور ان کے ہاتھ کو اپنا ہاتھ قرار دیا۔یہ کلمہ مقام جمع میں ہے جو بوجہ نہایت قرب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں بولا گیا ہے اور اسی مرتبہ جمع کی طرف جو محبت نامہ دوطرفہ پر موقوف ہے اس آیت میں بھی اشارہ ہے۔مَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى - تو نے نہیں چلایا خدا نے ہی چلایا جب کہ تو نے