معراج کا شہرہ آفاق سفر — Page 34
34 بھی صدیوں قبل قرآن مجید کو مصحف عثمان کہنے والے حلقوں میں خوب طبع آزمائی ہوئی اور اس کے جواب میں ایک روایت گھڑی گئی جسے اب زور شور سے پھیلایا جا رہا ہے اور وہ یہ کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم معراج میں تشریف لے گئے اور مقام قاب قاسین پر پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ علی بیٹھے ہیں۔( حياة القلوب فارسی جلد دوم صفحہ 273 تالیف قدوة العارفين رئيس المفسرين خاتم المحد ثین علامہ ملا باقر مجلسی ، مطبوعہ مطبع نولکشور۔حیات القلوب اردو جلد دوم صفحه 288 مطبوعہ پاکستان) آه معراج اور صاحب معراج کس درجہ مظلوم میں !! اپنوں اور بیگانوں کے اس نوع کے نا پاک حملوں پر حضرت مسیح موعود نے اشکبار آنکھوں سے یہ تڑپا دینے والے اشعار کہے تھے آنکه نفس اوست از هر خیر و خوبی بے نصیب ے ترا شد عیب با در ذات خیر المرسلیس آنکه در زندان ناپاکی ست محبوب و اسیر هست در شان امام پاکبازاں نکتہ چیں وہ شخص جس کا نفس ہر خیر و خوبی سے محروم ہے وہ بھی حضرت خیرالمرسلیس کی ذات میں عیب نکالتا ہے۔وہ جو خود ناپاکی کے قید خانہ میں اسیر و گرفتار ہے وہ بھی پاکبازوں کی شان میں نکتہ چینی کرتا ہے۔اعجازی مشاہدات اور اس کے عظیم الشان اثرات یہ مقالہ بالکل تشنہ اور نامکمل رہے گا جب تک یہ واضح نہ کیا جائے کہ معراج میں ایسے اعجازی مشاہدات کی جلوہ گری ہوئی جو رب ذوالجلال کے دست قدرت کے بغیر ممکن ہی نہ تھی۔اسی لئے اس کے نتیجہ میں ایسے عظیم الشان اثرات ہوئے جن سے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے تمام مذہبی نظریات میں ایسا تغیر عظیم ہوا کہ اس کی کایا ہی پلٹ گئی۔نہ یہ کہ سفر معراج معاذ اللہ دیو مالائی کہانیوں کا ملغوبہ تھا جیسا کہ کشف و الہام اور وحی کے کوچہ سے محض نا آشنا ,