معراج کا شہرہ آفاق سفر

by Other Authors

Page 33 of 57

معراج کا شہرہ آفاق سفر — Page 33

33 دوم :- یہ تو ایک مسلمان ماہر انجینئر کا سائنسی شاہکار ہے۔اب تبلیغی جماعت کے ایک مولانا کے ایک معرکہ کا احوال سنئے۔آپ نے ایک بارمند خطابت پر تعلق باللہ سے محروم ازلی ہونے کا کھلا اعتراف کرتے ہوئے فرمایا :- ہم تو اللہ کو براہ راست نہیں جانتے۔اللہ براہ راست ہم سے بات نہیں کرتا۔اپنا ہاتھ نہیں دکھاتا۔نہ جنت دکھائی نہ دوزخ دکھائی۔نہ عرش دکھایا نہ آسمان دکھایا۔“ دلچسپ اصلاحی واقعات صفحہ 390 - ناشر مکتبہ ارسلان کراچی اشاعت اول جولائی 2003ء) اس حقیقت کو ذہن نشین کر کے اب ”اعلیٰ حضرت" کے علمی اور سائنسی کمالات ملاحظہ ہوں نے سرور دو عالم کی ولادت با سعادت کے متعلق یوں گو ہر افشانی کی ہے۔ایک سمندر کی مچھلی نے دوسری سمندر کی مچھلیوں کو جا کر مبارک باد دی کہ کائنات کا سردار آ گیا ہے۔" ( صفحہ 391) سدرۃ المنتہیٰ کی طرف اشارہ کر کے یہ نکتہ بیان فرمایا کہ:- اللہ نے تخت نیچے اتارا عرش کے 70 ہزار پر دئے ہیں جس پر کوئی مخلوق نہیں پہنچ سکی 70 ہزار پردوں کو چیر کر اللہ تعالیٰ نے ( آنحضرت کو ) اپنے سامنے کیا۔(صفحہ 67) سفر معراج کی روایات میں آنحضرت کے مشاہدہ جنت کا بھی ذکر ملتا ہے۔اس زمانہ کے ظاہر پرست جبہ پوش چونکہ راندہ درگاہ الہی میں اس لئے خدائے ذوالعرش ان سے ناراضگی کے باعث ہم کلام نہیں ہوتا اس لئے ماوراء الطبعیات کے بیان میں اپنے خیالی جو ہر خوب دکھلاتے ہیں اسی لئے علامہ موصوف نے ایک دفعہ جنت کا منظر پیش کرتے ہوئے بتایا کہ جنت میں ستر ہزار دروازوں والا مر جان شہر ہے۔اس کے ایک محل میں 70 ہزار کمرے ہیں۔ہر کمرے میں ستر ہزار چار پائیاں ہیں۔ہر چار پائی پر ستر بستر لگے ہوئے ہیں۔(صفحہ 559 565t ) یع ناطقہ سر مگر یہاں اسے کیا کہیئے نوم - معراج نبوی ( فداہ ابی و امی ، روحی و جنانی ) کا نقطہ جمال و کمال کیا تھا ؟ اس پر