معراج کا شہرہ آفاق سفر — Page 35
بے بصیرت اور روحانی بینائی کے اندھے بتاتے ہیں یا جیسا کہ پادری ولیم سینٹ کلیر ٹو ڈل نے اپنی کتاب ینابیع الاسلام SOURCES OF ISLAM) میں یہ گمراہ کن، زہر یلا اور سراسر باطل پرو پیگنڈا کیا ہے کہ بانی اسلام نے قصہ معراج پہلوی زبان کی ایک کتاب بنام ارتائے ویراف نامک سے مستعار لیا ہے جو اردشیر بابکاں کے زمانہ میں تخمیناً چار سو برس قبل ہجرت کے تصنیف ہوئی تھی۔اس کے علاوہ زردشتیوں، ہندوؤں بلکہ بدعتی عیسائیوں کی موضوعہ کتابوں مثلاً وصیت نامہ ابراہیم اور رویائے پولوس میں۔مصنف دینا بیج الاسلام نے اس کے بعد لکھا ہے کہ اب خواہ ہندوؤں اور زردشتیوں نے اپنے یہاں ان باتوں کو ان موضوعہ کتابوں کے ذریعہ حاصل کیا ہو یا عیسائیوں کی یہ موضوعہ کتب ان بہت پرستوں کے خیالات پر مبنی ہوں مگر اس میں کسی کو بھی شک نہیں کہ وہ باتیں واہیات اور ہادر ہوا ہیں کوئی واقف کار شخص تو ان کو قبول نہیں کرتا۔“ بنا بیچ الاسلام مترجم پادری اکبر سیج صفحہ 118 119 ناشر پنجاب ریلیجس بک سوسائٹی انار کلی لاہور 1902 ء ) اب جاننا چاہئے کہ قرآن مجید نے سورۃ بنی اسرائیل میں رویائے معراج کا ذکر کرنے سے قبل سورۃ یوسف میں اس اولو العزم پیغمبر کی زندگی کے سب اہم واقعات پر روشنی ڈالی جو بنیادی طور پر آپ کی ایک رویا بنی کے گرد چکر لگاتے اور ان کی واقعاتی تعبیر ہیں اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس کی تفصیل میں یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے یہ رویاء سن کر نصیحت فرمائی کہ یہ رویاء اپنے بھائیوں کو ہر گز نہ بتانا ورنہ وہ تمہاری شدید مخالفت و مزاحمت کریں گے۔قرآنی الفاظ یہ ہیں۔اذ قال يوسف لابيه يا ابت اني رايت احد عشر كوكبا والشمس والقمر رايتهم لی ساجدين۔قال يا بني لا تقصص رو پاک علی اخوتك فيكيدوا لك كيدا۔۔ان الشيطان للانسان عدو مبين۔(يوسف: 6)