معراج کا شہرہ آفاق سفر

by Other Authors

Page 31 of 57

معراج کا شہرہ آفاق سفر — Page 31

31 رب العرش اور صاحب معراج سے کھلا مذاق نصرانیت کے یہ سفیر معراج کو جس طرح حکایتی رنگ اور فسانوی روپ میں پیش کرتے ہیں اس نے تاریخ اسلام کے اس معجزہ کو بازیچہ اطفال بنا کے رکھ دیا ہے مثلاً اول - قرآن مجید نے جس خدا کو پیش فرمایا ہے وہ محدود نہیں بلکہ کل کائنات اور اس کی کھربوں بلکہ بے شمار کہکشائیں اس کے دست قدرت میں ہیں۔وہ ارض و سماء کا مالک ہے اور ہر انسان کے شہرگ کے بھی قریب ہے جیسا کہ اللہ جلشانہ وعز اسمہ کا فرمانا ہے نحن القرب اليه من حبل الوريد ( ق : 17 ) یعنی ہم اس (انسان ) سے رگ جان سے بھی زیادہ قریب ہیں۔اس کے مقابل دیگر مذاہب خصوصاً یہودی ازم نے خدا کا عجیب و غریب حلیہ بتایا ہے چنانچہ ایک مغربی مفکر کیرن آرم سٹرانگ نے اپنی کتاب "A HISTORY OF GOD" میں بتایا ہے کہ اس مذہب کے علمبرداروں نے فلک پیمائی کرتے ہوئے خدا کی ٹانگوں تیک کی پیمائش دی ہے۔وہ لکھتا ہے کہ اس عجیب و غریب کتاب میں خدا کی پیمائش گڑ بڑا کر دکھ دینے والی ہے۔ذہن مفلوج ہو کے رہ جاتا ہے۔بنیادی اکائی فرسنگ 180 کھرب انگلیوں کے برابر ہے اور ہر انگلی زمین کے ایک کونے سے لے کر دوسرے کونے تک محیط ہے۔“ خدا کی تاریخ ترجمہ اردو صفحہ 173 174 ناشر نگارشات مزنگ روڈ لاہور۔2004ء) فرانسیسی محقق مسٹر موریس بوکائیے نے اپنی مقبول عام کتاب ہائیل قرآن اور سائنس“ میں رفع مسیح کے باطل عقیدہ کے تضادات پر ضرب کاری لگاتے ہوئے بتایا ہے کہ اس کا ذکر دوانا جیل میں ہے اور وہ بھی ایک دوسرے سے مخالف جس سے عیسائی از حد بدحواس ہو جاتا ہے۔مسٹر موریس ،اگر مزید ریسرچ کرتے تو انہیں یہ معلوم کر کے خوشی ہوتی کہ امریکہ کی نیشنل کونسل آف چرچز نے 1946ء میں انجیل کا نظر ثانی شدہ ایڈیشن شائع کیا جس میں مرقس اور لوقا کے متن سے یسوع مسیح کے آسمان پر جانے سے متعلق آیات کو جعلی قرار دے کر خارج کر دیا۔یہ ایڈیشن تھامس نیلیسن اینڈ کمپنی نے بیک وقت ٹورنٹو ، نیو یارک اور ایڈنبرا سے شائع کیا۔