معراج کا شہرہ آفاق سفر

by Other Authors

Page 30 of 57

معراج کا شہرہ آفاق سفر — Page 30

30 ہیں دوسری طرف خود مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق آنحضرت چند سیکنڈ کے لئے خدا کے دربار میں پہنچے مگر خدا نے انہیں راتوں رات زمین پر واپس بھیج دیا۔ایک بھارتی طلا سعید احمد پالن پوری نے 3 ستمبر 1994ء کو بنگلور کے تحفظ ختم نبوت کیمپ میں تقریر کرتے ہوئے گوہر افشانی کی کہ اس دنیا سے آسمان پر جانے والی چار ہستیاں ہیں۔حضرت آدم ، حضرت حوا ، آنحضرت محمد اور حضرت عیسی۔اول الذکر تینوں ہستیاں دوبارہ زمین پر آئیں اور یہیں ان کی وفات ہوئی' پھر کہا " حضرت عیسی میں دوسشا نہیں تھیں۔بشریت اور ملکیت اور ملک (فرشتہ) کا آسمان پر جانا آنا ہوتا رہتا ہے۔(روز نامہ سالار بنگلور 5 ستمبر 1994 ، صفحہ 3 کالم 4،3) ایک بد زبان پادری نے اپنی کتاب "مسیح کی شان (مطبوعہ اپریل 1980ء) میں پوری بے باکی سے لکھا ہے کہ تمام نبیوں پر موت کا ڈنک چل گیا اور وہ زیر زمین مدفون ہیں۔ان کی قبریں موجود ہیں۔وہ نفخ صور کے منتظر ہیں۔آسمان پر جانے والا بھی صرف وہی۔وہ آسمانی تھا اس نے آسمان پر جگہ پکڑی باقی تمام پیوند خاک ہو گئے مگر وہ زندہ ہے اور ابد تک زندہ رہے گا۔اہل اسلام کے مسلمات کی بناء پر وہی ایک زندہ جاوید ہے اور قرآن کہتا ہے مایستوی الاحياء والاموات یعنی زندے اور مردے برابر نہیں ( فاطر آیت 21) پس لا ریب وہ افضل ہے تمام کائنات سے اس کے سوا کوئی نہیں جو زندہ آسمانوں پر رہتا ہو۔“ کوئی ہمیں بتائے کہ ختم نبوت“ کے نام نہاد محافظ عملاً اس کے سوا اور کیا تبلیغ کر رہے ہیں۔غیرت کی جا ہے عیسی زندہ ہو آسماں پر ہو آسماں پر مدفون ہو زمیں میں شاہ جہاں ہمارا