معراج کا شہرہ آفاق سفر — Page 32
32 بہر کیف مسٹر موریس نے مزید لکھا ہے کہ فی الحقیقت واقعہ جسمانی اعتبار سے رفع مسیح ہوا ہی نہیں کیونکہ خدا تو جس طرح بلندیوں پر اپنے اسی طرح پستیوں پر ہے۔یہ تو مرا سر قرآنی نظریہ اور قرآنی سائنس اور فلسفہ ہی کی ترجمانی ہے لیکن قارئین حیران ہوں گے کہ پاکستان کے ایک مسلمان کہلانے والے محترم انجینئر صاحب نے یہ کارنامہ انجام دے کر یہودیوں کو بھی مات کر دیا ہے کہ انہوں نے زمین سے عرش تک کا فاصلہ اور عرش کی وسعت تک مختلف پیمانوں سے ناپ لی ہے جسے قرآن کے سائنسی انکشافات کے مسلمان مصنف نے ایمان افروز سائنسی تحقیق قرار دے کر بلکہ وحی بریانی کا درجہ دیتے ہوئے پنجوں کے صفحے سیاہ کر ڈالے ہیں۔تحقیق کے چند نمونے پیش خدمت کرتا ہوں یہ فرماتے ہیں :۔زمین کا ایک ہزار سال عرش پر ایک روز کے برابر ہے اور زمین سے عرش تک کا فاصلہ ایک ہزار نوری سال ہے زمین سے عرش تک میلوں میں جو فاصلہ بنا وہ تقریبا 60 ہزار کھرب میل ہے۔جو ایک ہزار نوری سال کے برابر ہے۔(صفحہ 443-444) جناب انجینئر صاحب نے فلک پیائی کا نیا ریکارڈ قائم کر کے عرش کے رقبہ کی وسعت کا فلک کا رقبہ و تخمینہ یہ لگایا ہے 312 ارب 67 کروڑ 47 لاکھ 58 ہزار 4 سومیل (تقریباً 132 ارب میل) (صفحہ 144) آپ نے چابک دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عرش کی مخامت ان کا نقشہ ان بلغ الفاظ میں کھینچا ہے :- عرش سورج کے حجم (VOLUME) سے تقر یبار پانچ سو 500 ب گنا ہے۔(صفحہ 448) ب اکبر الہ آبادی اگر آج زندہ ہوتے تو اس صاحبزادہ کو داد تحقیق دیتے ہوئے۔اپنے اس کلام پر ضرور نظر ثانی فرماتے کہ ے کیونکر خدا کے عرش کے قائل ہوں یہ عزیز جغرافیہ میں عرش کا نقشہ نہیں