مذہب کے نام پر خون — Page 84
مذہب کے نام پرخون قارئین کرام خود ہی فیصلہ فرمائیں کہ اگر راہ حق سے ہٹ جانے کا نام ارتداد نہیں تو اور کیا ہے؟ مودودی صاحب کے مندرجہ بالا دونوں فتوے پڑھ کر مجھے وہ کہانی یاد آجاتی ہے کہ کسی بادشاہ کو ایک گھوڑا بہت عزیز تھا۔وہ بہت بیمار ہو گیا۔بادشاہ کو کہاں برداشت تھی کہ اس کی موت کی خبر سنے۔حکم دے دیا کہ جو بھی یہ منحوس خبر سنائے گا مارا جائے گا مگر ساتھ ہی اس کا بھی پابند کر دیا کہ ہر آدھ گھنٹے کے بعد صحت کی اطلاع بھجواتے رہو لیکن مشیت ایزدی کے سامنے بھلا بادشاہ بے چارے کی کیا چلتی تھی؟ ابھی زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ اس گھوڑے نے تڑپ تڑپ کر جان دے دی۔تب افسران در بارشاہی بہت فکر مند اور پریشان ہوئے کہ کون بادشاہ کے سامنے حاضر ہو کر اس گھوڑے کی موت کی خبر سنائے اور خود اپنی موت کا پروانہ لے کر آئے۔۔آخر انہوں نے ایک غریب اور بے کس آدمی کو پکڑ کر مجبور کیا کہ وہ بادشاہ کو جا کر یہ منحوس خبر سنائے۔اب اگر وہ ان کی بات کا انکار کرتا تو ان افسران شاہی کے ہاتھوں مارا جا تا اگر مان جاتا تو بادشاہ کے عتاب کا نشانہ بنتا۔غرضیکہ غریب سخت شش و پنج میں مبتلا ہو گیا۔گویا اب اس کے لئے ایک کہاوت کے مطابق دو ہی راستے تھے یا تو ساحل پر کھڑا رہے اور تعاقب کرنے والے شیطان کے ہاتھوں مارا جائے یا پھر گہرے نیلے سمندر میں کود کر اس کی لہروں کی آغوش میں جا سوئے۔وہ غریب اور بے زور تو تھا لیکن تھا بہت ذہین۔آخر اس نے اس پھندے سے رہائی کی ایک راہ سوچ لی اور گھوڑے کی موت کی خبر بادشاہ تک پہنچانے پر آمادہ ہو گیا۔لیکن اس نے یہ خبر کچھ اس طرح سے سنائی کہ اے جلالتہ الملک ! بادشاہ سلامت ! مبارک صد مبارک ہو اب تو آپ کا گھوڑا بہت آرام میں ہے۔بادشاہ نے خوش ہو کر پوچھا کہ اس اچھی خبر کی کچھ تفصیل تو بتاؤ۔اس نے دست بستہ عرض کی کہ حضور! پہلے تو وہ درد کی شدت سے مسلسل تڑپ رہا تھا اب بڑے سکون سے لیٹا ہوا ہے۔پہلے تو اس کا انگ انگ پھڑک رہا تھا اب تو وہ پلک تک نہیں جھپکتا۔پہلے تو دور دور تک اس کے دل کے دھڑ کنے کی آواز سنائی دیتی تھی اب تو چھاتی پر کان لگا کر بھی سنو تو آواز نہیں آتی۔پہلے تو اس کا سانس دھونکنی کی طرح چل رہا تھا اب تو ایسا سکون ہے کہ سانسوں کا جھنجھٹ ہی ختم ہوا۔بادشاہ نے جب یہ سنا تو تلملا کر بولا کہ اوکم بخت ! یہ کیوں نہیں کہتا کہ وہ مرگیا تب اس نے عرض کی