مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 83 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 83

۸۳ مذہب کے نام پرخون اگر دودھ زہریلا ہو تو اس سے جو مکھن نکلے گا قدرتی بات ہے کہ وہ دودھ سے زیادہ زہریلا ہوگا۔۔۔پس جو لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ اگر مسلم اکثریت کے علاقے ہندو اکثریت کے تسلط سے آزاد ہو جائیں اور یہاں جمہوری نظام قائم ہو جائے تو اس طرح حکومت الہی قائم ہو جائے گی ان کا گمان غلط ہے۔دراصل اس کے نتیجہ میں جو کچھ حاصل ہو گا وہ صرف مسلمانوں کی کافرانہ حکومت ہوگی لے ،، اگر ابھی تک غیر مودودی ” مسلمانوں سے متعلق مولانا کے فتوی کی وضاحت نہ ہوئی ہو تو مزید وضاحت کی غرض سے ایک اور اقتباس پیش ہے:۔یہاں جس قوم کا نام مسلمان ہے وہ ہر قسم کے رطب و یابس سے بھری ہوئی ہے۔کیریکٹر کے اعتبار سے جتنے ٹائپ کافروں میں پائے جاتے ہیں اتنے ہی اس قوم میں بھی موجود ہیں۔عدالتوں میں جھوٹی گواہیاں دینے والے جس قدر کا فرقو میں فراہم کرتی ہیں غالباً اسی تناسب سے یہ بھی فراہم کرتی ہے۔رشوت ، چوری، زنا، جھوٹ اور دوسرے تمام ذمائم اخلاق میں یہ کفار سے کچھ کم نہیں ہے کے ،، کیا ان فتووں کے بعد بھی کسی مزید کفر کے فتویٰ کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے۔اگر رہتی ہے تو شائد اس خیال سے کہ یہ فتویٰ عامتہ الناس یعنی 999 فی ہزار سے متعلق ہوگا۔مسلمان علماء اور دیگر زعماء پر چسپاں نہیں ہو سکتا مگر یہ خیال درست نہیں کیونکہ مودودی صاحب کی نظر میں ہر غیر مودودی ایک ہی لاٹھی سے ہانکے جانے کے لائق ہے:۔خواہ مغربی تعلیم و تربیت پائے ہوئے سیاسی لیڈر ہوں یا علماء دین ومفتیان شرع مبین دونوں قسم کے راہنما اپنے نظریہ اور اپنی پالیسی کے لحاظ سے یکساں گم کردہ راہ ہیں۔دونوں راہ حق سے ہٹ کر تاریکیوں میں بھٹک رہے ہیں۔۔۔ان میں 66 سے کسی کی نظر بھی مسلمانوں کی نظر نہیں ہے۔" مسلمان اور موجودہ سیاسی شماش حصہ سوم صفحه ۱۳۲ مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش حصہ سوم صفحه ۱۶۶ مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش حصہ سوم صفحه ۹۵