مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 85 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 85

۸۵ مذہب کے نام پرخون کہ حضور! یہ میں نہیں کہتا یہ تو آپ کہہ رہے ہیں بھلا میری کیا مجال کہ ایسا منحوس لفظ اپنی زبان پر لاؤں۔پس اگر کوئی قوم گم کردہ راہ ہو۔راہ حق سے ہٹ چکی ہو۔تاریکیوں میں بھٹک رہی ہو۔اس کی نظر مسلمان کی نظر نہ رہی ہو۔جتنے ٹائپ کافروں میں پائے جاتے ہوں اس میں پائے جاتے ہوں تو اس قوم کو کا فرنہیں تو اور کیا کہا جائے گا؟ مگر شائد مودودی صاحب کہ دیں کہ دیکھو تم ہی کہہ رہے ہو میں تو نہیں کہتا۔اس لئے اب بھی اگر کسی کو یقین نہ آئے کہ ایسا ہونا ممکن ہے تو جماعت اسلامی سے الگ ہو جانے والوں سے متعلق ارتداد کا فتویٰ اس کی تسلی کے لئے کافی ہوگا:۔یہ وہ راستہ نہیں ہے جس میں آگے بڑھنا اور پیچھے ہٹ جانا دونوں ایک ہوں 66 نہیں۔یہاں پیچھے ہٹ جانے کے معنے ارتداد کے ہیں لے ، پس اگر جماعت اسلامی سے علیحدہ ہو کر کسی دوسری جماعت میں شامل ہو جانے کا نام ارتداد ہے تو دوسری جماعت کا نام ”کفر نہیں تو اور کیا ہوسکتا ہے؟ لیکن اگر میں غلط کہہ رہا ہوں تو مودودی صاحب ہی درست فرمائیں کہ وہ ان مسلمانوں کو کیا سمجھتے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عالم الغیب مانتے ہیں اور آپ کے مادی جسم کا انکار کرتے ہیں۔اور ان مسلمانوں کو کیا سمجھتے ہیں جن کے نزدیک اولیاء اللہ کی قبروں پر جا کر اپنی مرادیں مانگنی جائز ہیں۔اور وہ ان مسلمانوں کو کیا سمجھتے ہیں جو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علاوہ باقی سب خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کو غاصب کہتے ہیں اور ان پر اور دیگر صحابہ پر بشمولیت حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تبرا بھیجتے ہیں اور لعنتیں ڈالتے ہیں۔ویسا جواب نہ دیں جیسے گھوڑے کے مرنے کی خبر دی گئی ہے بلکہ بادشاہ کے الفاظ میں بتائیے کہ ان کو کیا کہتے ہیں۔پیدائشی مسلمان یہاں پہنچ کر ایک نہایت اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ مرتد کی سزا قتل ہے اور یہ بھی مان لیا جائے کہ مودودی صاحب کے نزدیک ان کی جماعت کے سوا باقی سب روئداد جماعت اسلامی حصہ اوّل صفحہ ۸