مذہب کے نام پر خون — Page 18
۱۸ مذہب کے نام پرخون اور ان کی طبیعت پر نہایت گہرا اور مہلک اثر چھوڑنے کا موجب بن سکتا ہے۔میں نے خود اپنی آنکھوں سے ان مشینوں کو دیکھا اور میں نے سوچا کہ انسان بھی خدا تعالیٰ کی کیسی حیرت انگیز تخلیق ہے کہ ترقی اور تنزل دونوں میں انتہاء تک پہنچ جاتا ہے۔ایک طرف تو اسلام۔جب بلند پروازی اختیار کرتا ہے تو بام نبوت پر قدم رکھ دیتا ہے اور اپنے آقا ، خالق اور مالک سے ہمکلام ہو جاتا ہے اور دوسری طرف جب وہ گرتا ہے تو بگڑے ہوئے مذہبی جبہ پوش علماء کی صورت میں دنیا پر ایک لعنت بن کر گرتا ہے۔ایک طرف مجھے اس مظلوم مسیح کی تصویر نظر آئی جو صلیب کی خوفناک اذیتوں سے کراہتے ہوئے ایلی ایلی لِمَا سَبَقْتَنِی کی دردناک آواز بلند کر رہے تھے۔انہوں نے صرف اس جرم کی سزا میں صلیب کی اذیتیں برداشت کیں کہ ان کی قوم کے نزدیک وہ ارتداد اختیار کر چکے تھے۔دوسری طرف وہ سفاک عیسائی جبہ پوش مذہبی رہنما مجھے نظر آئے جنہوں نے اسی مظلوم کے نام پر بے کس اور بے اختیار انسانوں پر اسی ارتداد کے جرم میں ایسے ایسے خوفناک مظالم ڈھائے کہ صلیب کا ظلم بھی ان ظلموں کے سامنے بے حقیقت ہو کر رہ جاتا ہے۔میں نے سوچا کہ کیا کے اس اعلان عام کے بعد کہ اے بنی نوع انسان ! خوش ہو جاؤ کہ اسلام ہمیشہ ہمیش کے لئے امن کا اعلان کرتا ہے اور مذہبی ظلم و تشدد کا ہمیشہ ہمیش کے لئے قلع قمع کرتا ہے۔لا اكره في الدِّينِ دین میں کوئی جبر نہیں ، دین کے نام پر دکھ دینا حرام ہے۔قد تبَيَّنَ الرُّشْدُ۔اسلام کا تو یہ حال ہے کہ گویا عقل و دانش کا ایک درخشندہ سورج طلوع ہو گیا۔ایک واضح اور کھلی کھلی ہدایت آگئی۔میں نے سوچا کہ اس واضح اور غیر مبہم امن کے اعلان کے بعد بھی کیا کسی مسلمان کے ذہن میں یہ تصور آسکتا ہے کہ اسلام مذہب کے نام پر جبر روا رکھتا ہے تو میری نظر اس زمانہ کے علماء کی طرف اٹھی اور شرم سے جھک گئی اور میرا دل درد سے بھر گیا کہ آج اس زمانہ میں بھی ایسے مذہبی رہنما موجود ہیں جو اس رَحْمَةٌ لِلعالمین کی طرف منسوب ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔۔۔۔۔وہ جسے زندگی بھر دردناک مظالم کا نشانہ بنایا گیا لیکن ظلم کا جواب اس نے ظلم سے نہ دیا بلکہ کمال صبر اور عفو اور مغفرت کے وہ نمونے دکھائے کہ مافوق البشر دکھائی دیتے ہیں۔یر اسی رَحْمَةٌ لِلْعَالَمِین کی غلامی کا دم بھرتے ہوئے بھی اس کی تمام صفات حسنہ سے