مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 17 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 17

۱۷ مذہب کے نام پرخون تھے کہ ہیرے کی کنیوں سے زیادہ سخت ہو جائیں لیکن ایسا ہی ہوا اور خود عیسائی مؤرخین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ عیسائیت کے نام پر جو مظالم بعض مظلوم بندوں پر ڈھائے گئے انسانیت ان کے تصور سے شرماتی ہے۔انگلستان میں مجھے خود ان ظلم کے آلات میں سے بعض کو دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے۔لندن میں ایک نمائش ہے جس کا نام ہے میڈم ٹو سو MADAME TOUSSAUD یعنی میڈم ٹوسو کی بنائی ہوئی چیزوں کی نمائش۔وہاں ایک فرانسیسی خاتون مادام توسو نے بھی دنیا کے بڑے بڑے نیک آدمیوں کے بت بھی بنا کر رکھے ہوئے ہیں اور بد آدمیوں کے بھی۔یہ بت ایسی عمدگی سے بنائے ہوئے ہیں کہ بالکل زندہ انسانوں کے مشابہ نظر آتے ہیں اور بعض دفعہ یہ دھو کہ لگ جاتا ہے کہ بت نہیں ہیں بلکہ انسان ہیں۔چنانچہ کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ کوئی اجنبی کسی سپاہی کو کھڑا دیکھ کر اس سے رستہ پوچھنے کے لئے بڑھتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ زندہ سپاہی نہیں بلکہ سپاہی کا بت ہے۔چنانچہ بڑے بڑے نیک کام کرنے والوں یا مشہور لوگوں کے بت بھی وہاں موجود ہیں اور بڑے بڑے سفاک اور ظالم انسانوں اور بد نام مجرموں کے بت بھی وہاں موجود ہیں۔صرف یہی نہیں بلکہ ان ظالموں کے آلات ظلم کو بھی اپنی اصلی صورت میں اکٹھا کر کے رکھا گیا ہے چنانچہ وہ اصل مشینیں بھی وہاں موجود ہیں جن کے ذریعہ عیسائیت کے علمبر دار بعض لوگوں کو ارتداد کی سزا میں دکھ دیا کرتے تھے یا ارتداد کے جرم کا اقبال کروانے کے لئے مظالم ڈھایا کرتے تھے تا کہ ان ظلموں اور دکھوں سے تنگ آکر وہ لوگ اپنے جرم ارتداد کو تسلیم کر لیں۔وہ مظالم اتنے خوفناک تھے کہ بلاستثناء لوگ یا تو ان ظلموں کی حد سے بڑھی ہوئی اذیت سے سسک سسک کر وہیں جان دے دیا کرتے تھے اور یا پھر اپنے جرم کے اقبال ہی کو غنیمت جانتے تھے۔وہ یہ بہتر سمجھتے تھے کہ انہیں زندہ آگ میں جلا دیا جائے بہ نسبت اس کے کہ سپین کی انکوئیزیشن یا فرانس کی انکوئیزیشن کے ہاتھوں میں وہ نا قابل برداشت ظلم سہہ سہہ کر جان دے دیں۔ان مشینوں میں سے جو لنڈن کے عجائب گھر میں رکھی ہوئی ہیں بعض ایسی ہیں جن کے او پر پردہ پڑا ہوا ہے اور یہ لکھا ہوا ہے کہ عورتیں اور بچے ان کو نہ دیکھیں یعنی وہ ظلم کے طریقے اتنے خوفناک ہیں کہ منتظمین کے نزدیک عورتوں اور بچوں کا ان کو دیکھنا بھی ایک نا قابل برداشت امر ہے