مذہب کے نام پر خون — Page 134
۱۳۴ مذہب کے نام پرخون جانم فداشوڈ بُره دین مصطفی این است کامِ دل اگر آید میترم میرے دل کی ایک ہی تمنا ہے کہ اگر مجھے موقع میسر آئے تو میری جان محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی راہ میں فدا ہو۔اور کبھی در دفراق سے بے تاب ہو کر اپنی قلبی کیفیات کا اظہار یوں کرتا تھا کہ:۔أَنْظُرْ إِلَى بِرَحْمَةٍ وَتَحَلُّنٍ يَا سَيِّدِى أَنَا أَحْقَرُ الْغِلْمَانِ يَا حِب إِنَّكَ قَدْ دَخَلْتَ مَحَبَّةً فِي مُهْجَتِي وَ مَدَارِكِي وَ جَنَانِ مِنْ ذِكْرِ وَجْهِكَ يَا حَدِيقَةً بَهْجَتِي لَمْ أَخْلُ فِي لَحْظُ وَلَا فِي أَن جِسْمِي يَطِيرُ إِلَيْكَ مِنْ شَوْقٍ عَلَا يَا لَيْتَ كَانَتْ قُوَّةُ الطَّيران (ترجمہ) ” میرے پیارے ! میری طرف ایک رحمت اور شفقت کی نظر ڈال۔دیکھ میرے آقا! میں تو ایک ادنی غلام ہوں۔اے میرے محبوب ! تو اپنی محبت کے ساتھ میری روح اور میرے دل و دماغ میں سرایت کر گیا ہے۔اے میری مسرتوں کے باغ! میں تیری یاد سے کسی آن اور کسی لحظہ بھی خالی نہیں رہتا۔گویا میرا جسم ایک شوق غالب کے ساتھ تیری سمت اڑا چلا جا رہا ہے۔اے کاش اڑنے کی طاقت ہوتی ! اے کاش اڑنے کی طاقت ہوتی۔!! اسی خاتم النبیین کے فدائی اور آپ کے متبعین کے متعلق احرار را ہنماؤں نے فحش کلامی کو اپنی انتہاء تک پہنچادیا اور ہر وہ گندی گالی جو پنجاب کی گلیوں میں سنائی دی جاسکتی ہے آپ کو دی