مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 135 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 135

۱۳۵ مذہب کے نام پرخون جانے لگی یہاں تک کہ فاضل ججوں نے جب ان کے بعض اقتباسات احرار اخبارات اور پولیس رپورٹوں میں ملاحظہ کئے تو ایک خاص تحریر کا حوالہ دیتے ہوئے وہ یہ لکھنے پر مجبور ہو گئے کہ:۔ایک اردو اخبار مزدور ملتان سے شائع ہوتا ہے جس کا ایڈیٹر سید ابوذر بخاری ہے جو مشہور احراری لیڈر سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا بیٹا ہے اس نے اپنی اشاعت ۱۳ رجون ۱۹۵۲ء میں ایک مضمون شائع کیا جس میں جماعت احمدیہ کے امام کے متعلق عربی خط میں ایک ایسی پست اور بازاری بات لکھی کہ ہماری شائستگی ہمیں اس کی تصریح کی اجازت نہیں دیتی۔اگر یہ الفاظ احمدی جماعت کے کسی فرد کے سامنے کہے جاتے اور نتیجہ یہ ہوتا کہ کسی کی کھوپڑی تو ڑ دی جاتی تو ہمیں اس پر ذرا بھی تعجب نہ ہوتا جو الفاظ استعمال کئے گئے وہ پر لے درجے کے مکروہ اور مبتذل ذوق کا ثبوت ہے اور ان میں اس مقدس زبان کی نہایت گستاخانہ تضحیک کی گئی ہے جو قرآن مجید اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان ہے لے “ پس یہی وہ طریق کار ہے جس کے ذریعے ان راہنماؤں نے مغربی پاکستان کے طول و عرض میں احمدیوں کے خلاف مخالفت کی ایک آگ بھڑکا دی اور خود جلتے ہوؤں کا تماشا کرنے کے لئے کنارے بیٹھ رہے اور جیسا کہ دنیا کا دستور ہے مسلمان شرفاء کی اکثریت اگر چه سخت نفرت اور ناپسندیدگی کے ساتھ اس ” خدمت اسلام کو دیکھتی رہی مگر سخت مجبور و ناچار تھی کیونکہ یہ شرفاء جانتے تھے کہ علماء ایک لمبے عرصہ کی کھلی بدزبانی کے زور سے ( جسے یہ زور خطابت کا نام دیتے تھے ) عامی جذبات میں سخت ہیجان پیدا کر چکے ہیں اور آج ہر وہ شخص جو اس ظلم و استبداد کے خلاف آواز بلند کرے گا خود بھی اسی ظلم و استبداد کا نشانہ بن جائے گا۔یہ کوئی فرضی خوف نہیں تھا بلکہ عملاً ایسا ہوتا بھی رہا۔چنانچہ ایک موقع پر جبکہ ایک غیر احمدی منصف مزاج پولیس افسر نے ایک ہنگامہ آرائی کو روکنے کی کوشش کی تو اس کے خلاف بھی افتراء پردازی اور اشتعال انگیزی کا ایک ہنگامہ گرم کر دیا گیا اور پولیس کے خلاف یہ افواہ پھیلا دی گئی کہ :۔پولیس نے رضا کاروں کو منتشر کرتے ہوئے قرآن مجید کی توہین کی۔اس کو ٹھوکریں تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ صفحہ ۸۷