مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 133 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 133

مذہب کے نام پرخون الزام پر الزام تراشنے لگے اور :۔جتنا وقت گزرتا گیا تقریروں کا لہجہ بد سے بدتر ہوتا چلا گیا۔۔احرار نے اپنی پوری توجہ احمدیوں کی بدگوئی پر مرتکز کر دی اور نہایت شرمناک دشنام طرازی کا آغاز کر دیا لے “۔احرار کی جن تقاریر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مسٹر انور علی نے نہایت شرمناک دشنام طرازی کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں ان کا پورا تعارف اس مختصر تعریف میں نہیں ہوسکتا بلکہ حقیقہ وہ ایسی انسانیت سوز ہیں کہ ایک عام انسان سے متعلق بھی اگر وہ الفاظ استعمال کئے جائیں جو مقدس بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ سے متعلق کئے گئے تو کوئی شریف انسان انہیں سننے کی تاب نہیں لاسکتا اور تمام احرار لیڈر بشمولیت مولوی محمد علی جالندھری و ماسٹر تاج الدین انصاری و ابوذر بخاری اس دشنام طرازی اور بدکلامی میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے لگے اور تعجب ہے کہ پھر بھی اسی نبیوں کے سردار کی جانشینی کا دعویٰ کرتے تھے جس کی زبان کوثر و تسنیم کی طرح پاک اور صاف اور شریں تھی اور جس کی تعلیم یہ تھی کہ :۔وَلا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللهَ عَدُوا بِغَيْرِ عِلْمٍ (الانعام:١٠٩) خبر دار ) ان معبودان باطلہ کو (بھی) گالیاں نہ دو جنہیں یہ لوگ خدا کے سوا شریک ٹھہرا رہے ہیں مبادا یہ اپنی جہالت سے خدا کو برا بھلا کہنے لگ جائیں“۔مگر یہاں تو کوئی باطل معبود بھی مقابل پر نہیں تھا بلکہ اسلام کا ایک ایسا فدائی تھا جس نے ,, 66 اپنی ساری زندگی خدمت اسلام میں صرف کر دی اور جس کا قصور صرف اتنا تھا کہ اس نے خدا کے فرمان کے مطابق مہدی اور مسیح ہونے کا دعویٰ کیا اور جس کا فخر صرف یہ تھا کہ وہ احمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام ہے اور اسی کے دین کی اشاعت کے لئے مبعوث ہوا ہے۔ہاں یہ جنگ انسانیت شرمناک دشنام طرازی اسی مرزائے قادیان سے متعلق کی گئی جس کی جان عشق محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم میں گداز رہا کرتی تھی اور جو کبھی تو سوز محبت سے بے قرار ہو کر اپنے محبوب آقا سے یوں گویا ہوا کرتا تھا کہ:۔ے تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ صفحہ ۲۰ بحوالہ مسٹر انور علی ڈی۔آئی۔جی سی۔آئی۔ڈی