مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 6 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 6

مذہب کے نام پرخون بار بار حملہ کر کے چڑھ آتے رہے اور دھمکاتے رہے اور ڈراتے رہے کہ کسی طرح یہ اپنے مذہب کی پر امن تبلیغ سے باز آجائیں۔اور حضرت شعیب کے مخالفین نے بھی یہی طریق اختیار کیا اور حضرت شعیب سے کہا لَنُخْرِجَنَّكَ يُشْعَيْبُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَكَ مِنْ قَرْيَتِنَا أَوْ لَتَعُودُنَ فِي مِلَّتِنَا قَالَ اوَ لَوْا كُنَّا كرِهِينَ (الاعراف: ۸۹) کہ اے شعیب ! یا تو ہم تم کو اور جو لوگ تمہارے ساتھ ایمان لائے ہیں اپنے شہر سے نکال دیں گے یا تم ہمارے مذہب میں ضرور واپس آجاؤ گے۔یعنی تم پر اتنی شدت کی جائے گی ، اتنی سختی کی جائے گی کہ زندگی تم پر اجیرن ہو جائے گی۔تم نے ارتداد کا جو طریق اختیار کیا ہے یعنی ایک مذہب کو چھوڑ کر دوسرے مذہب کی پیروی شروع کر دی ہے یہ طریق تمہیں بہر حال بدلنا پڑے گا اس لئے ہم تمہیں یہ موقع دے رہے ہیں اور تمہیں متنبہ کر رہے ہیں۔” او کو كُنا كرهين ؟ حضرت شعیب نے فرمایا کہ کیا اس صورت میں بھی ہمارا دل تمہارے مذہب کی تائید نہ کرتا ہو؟ کیا اس طرح بھی دنیا میں کسی کو کسی مذہب کا پیرو اور پابند کیا جاتا ہے؟ دل گواہی دیتا ہو کہ وہ مذہب جھوٹا ہے اور بے اختیار اس مذہب سے بھاگ کر کسی پر امن مذہب کی امان میں آجانا چاہتا ہو تب بھی کیا اسے مجبور کیا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے دل کی گواہی کے خلاف اپنے ضمیر کی آواز کے خلاف ایک ایسے عقیدہ کو قبول کر لے جس پر اس کا دل تسلی نہیں پاتا؟ و قتل مرتد کے خلاف حضرت شعیب کی یہ ایک ایسی چٹان کی طرح مضبوط اور نا قابل تردید دلیل ہے کہ آج تک اس کا جواب کسی سفاک سے بن نہیں پڑا کیونکہ ہر انسانی عقل اور ہر انسانی دل اس امر پر ہمیشہ سے شاہد ہے کہ تلوار کو نہ کبھی پہلے دلوں پر حکومت نصیب ہوئی نہ کبھی آئندہ ہوگی۔اسے ہڈیوں اور گوشت پوست پر تو اختیار حاصل ہو جاتا ہے مگر عقل اور جذبات اور عقائد کی دنیا تک اس کی کوئی رسائی نہیں۔یہ انسانی فطرت کی ایک غیر مبدل آواز ہے اور یہ بنیا دی فطرت وہی ہے جو آدم کو عطا ہوئی تھی اور دنیا کا سب سے آخری انسان بھی اسی فطرت پر مرے گا۔انسان کی یہ فطرتی آواز کبھی تبدیل نہیں ہوسکتی اور وہ مظلوم جن کو مذہب کے نام پر مذہب سے نا آشنار ہنماؤں نے مرتد ٹھہرا کر واجب القتل قرار دیا ہے ان کے دلوں کی آواز ہمیشہ اسی طرح بلند ہوتی رہے گی کہ کیا تم ہمیں اپنے بگڑے ہوئے عقائد کو ماننے پر اس وقت بھی مجبور کر رہے ہو جبکہ ہمارا دل ان سے یکدفعہ