مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 7 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 7

مذہب کے نام پرخون بے زار ہو چکا ہے؟ مگر حسرت کا مقام ہے کہ ہمیشہ سے ایسا ہی ہوتا چلا آیا ہے اور مذہب کے نہ ماننے والوں نے ہر نبی اور اس کی قوم پر ارتداد کے فتوے لگائے ، انہیں واجب القتل قرار دیا اور ظلم وستم کی وہ وہ راہیں ایجاد کیں کہ ان کے ذکر سے بھی انسانیت شرما جاتی ہے پھر دیکھئے حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے متبعین سے بھی یہی ہوا اور فرعون نے بھی وہی کہا جو اس سے پہلے گزشتہ قوموں کے نام نہاد مذہبی لیڈر کہا کرتے تھے اور وہی ظلم کی راہ اختیار کی جو خدا کے برگزیدہ بندوں سے متعلق ازل سے ظالم اختیار کرتے آئے تھے۔چنانچہ فرعون نے اپنے متبعین کو حکم دیا:۔أَقْتُلُوا أَبْنَاءَ الَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ وَاسْتَحْيُوا نِسَاءَهُمْ (المومن: ٢٦) کہ اے میرے مطیع اور فرمانبردار ارباب اقتدار! ان لوگوں کو جو موسی پر ایمان لائے 66 جبر کے ساتھ باز رکھو اور ان کے بیٹوں کو تو قتل کر دو اور ان کی بیٹیوں کو زندہ رکھو۔“ پس دیکھئے کہ مذہب کے نام پر جرم ارتداد کی یہ سزا بھی انبیاء کی جماعتوں نے نہیں دی بلکہ انبیاء کی جماعتوں کو دی گئی۔پھر اسی طرح موسیٰ علیہ السلام کے بعد حضرت عیسی علیہ السلام کو بھی کیسے کیسے مظالم کا نشانہ بنایا گیا یہاں تک کہ دشمنوں نے عملاً ان کو سولی پر چڑھا کر مارنے کی کوشش کی اور ان کے ماننے والوں پر بھی کئی قسم کے مظالم ڈھائے۔پس یہ سلسلہ ظلم وستم جو آج تک مذہب کے نام پر روا رکھا گیا ہے اور جس کا نام ہمیشہ ارتداد کی سزا رکھا گیا اس کی ہر گز کوئی سند بھی مذہبی صحیفوں میں نہیں ملتی۔میری مراد ہے ان صحیفوں میں نہیں ملتی جو صحیفے خدا تعالیٰ نے اپنے انبیاء پر اتارے ان کی بگڑی ہوئی صورت میں انبیاء کے گزر جانے کے سینکڑوں سال بعد اگر بعد کے بددیانت لوگوں نے ان میں کتر بیونت کر کے یا اپنے خیالات ٹھونس کر ان میں ظلم کی تعلیم بھر دی ہو تو خدائی صحیفے اس سے بری الذمہ ہیں۔قرآن کریم نے تاریخ مذاہب کے ناقابل تردید حوالہ جات سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ انبیاء اور ان پر ایمان لانے والے مخلصین دنیا کے مظلوم ترین لوگ تھے جن پر شدید مظالم ڈھائے گئے لیکن انہوں نے نہایت صبر اور استقامت کے ساتھ محض خدا کی خاطر ان مظالم کو برداشت کیا۔اس تاریخ کو