مذہب کے نام پر خون — Page 46
مذہب کے نام پرخون داخل ہوتے رہے۔پس مکہ میں ہونے والے تمام مسلمان جو بعد میں مہاجرین کہلائے اس الزام سے قطعا بری ہیں کہ ان کے قبول اسلام میں تلوار کو کوئی دخل تھا۔ہجرت تا صلح حدیبیہ دوسرے دور سے متعلق اس خیال سے کہ اس دور میں مسلمانوں نے اپنے دفاع کے لئے تلوار اٹھائی۔شائد بعض بدظن طبیعتیں یہ کہہ سکیں کہ ہوسکتا ہے اس دفاعی تلوار کے خوف سے اسلام پھیلا ہومگر اس دور کے اسلام قبول کرنے والوں پراگر ایک اچٹتی ہوئی نگاہ بھی ڈالی جائے تو یہ واہمہ اس طرح معدوم ہو جاتا ہے کہ جیسے طلوع آفتاب پر رات کی تاریکی۔اس دور کے وہ مسلمان جو مدینہ کے باشندے تھے انصار کہلاتے تھے اور یہ تقریبا سارے کے سارے اوس اور خزرج کے قبائل سے تعلق رکھتے تھے۔اس کے علاوہ چند افراد نے یہود میں سے اسلام قبول کیا تھا اور کچھ وہ مسلمان تھے جو مدینہ کے علاوہ دوسری بستیوں کے رہنے والے تھے۔مکہ میں بھی اسلام کی ترویج کلیتہ بند نہ ہو سکی تھی اور کفار مکہ کی شدید ایذاء رسانی کے باوجود وہاں قبول اسلام کا سلسلہ ہنوز جاری تھا۔اس مدنی دور کے مسلمانوں کی بھاری اکثریت انصار پر مشتمل تھی اور انصار کا بلا جبر و اکراہ اسلام قبول کرنا بھی ایک ایسی واضح اور نکھری ہوئی حقیقت ہے کہ دوست تو دوست دشمن بھی یہ کہہ نہیں سکتے کہ انصار کو مہاجرین کی تلوار نے مسلمان بنایا تھا یا ان کے قبول اسلام میں تلوار کو ذرہ بھر بھی کوئی دخل تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اوس و خزرج کے ساتھ سرے سے کوئی جنگ ہی نہیں لڑی۔پس بزور شمشیر مسلمان بنانے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔یہود میں سے مسلمان ہونے والوں کی تعداد بہت تھوڑی تھی اور ان میں سے بھی کسی پر اس شک کی گنجائش موجود نہیں کہ وہ تلوار کے خوف سے مسلمان ہوا ، بلکہ ان کا مسلمان ہونا ایسے شدید مخالف اور خطرناک حالات میں ہوا جبکہ خود مسلمانوں کا مستقبل بھی بظاہر سخت مخدوش تھا۔بیرونی قبائل کے نو مسلمین بھی جن کی تعداد انصار کی نسبت بہت ہی تھوڑی تھی قطعاً کسی تلوار کے خوف سے مسلمان نہیں ہوئے بلکہ سخت خطرناک حالات میں اسلام قبول کیا۔اب رہیں اس دور کی جنگیں اور مہمات تو ان کے نتیجہ میں تلوار کے ڈر سے مسلمان