مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 47 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 47

۴۷ مذہب کے نام پرخون ہونے والوں کی زیادہ سے زیادہ امکانی تعداد جنگی قیدیوں کی ہی ہوسکتی ہے۔اس امر کی چھان بین کے لئے ضروری ہے کہ ہم ہجرت سے لے کر صلح حدیبیہ تک کے تمام غزوات وسرا یا پر نظر ڈالیں۔ان غزوات وسرا یا کی کل تعداد پچاس ہے۔غَزْوَهِ یا سَرِیہ سے بعض لوگ غلطی سے جنگ مراد لے لیتے ہیں لیکن یہ خیال لاعلمی کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے۔غزوہ سے مراد محض ایسی مہم ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنفس نفیس شریک ہوئے۔خواہ لڑائی ہو ، چور ڈاکو کا تعاقب ہو یا دیکھ بھال کے لئے کوئی پارٹی باہر جائے وغیرہ وغیرہ۔اسی طرح سریہ سے مراد بھی مہمات ہی ہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ سریہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شامل نہیں ہوئے۔اس کے علاوہ تبلیغی سفر بھی غزوہ اور سر یہ میں شمار ہوتے ہیں اور کسی صحابی کی انفرادی مہم بھی سر یہ ہی کہلاتی ہے۔چنانچہ اس دور میں کل پچاس غزوات وسرا یا ہوئے جن میں سے جنگ کہلانے کے مستحق صرف تین ہیں :۔جنگ احد، جنگ بدر اور جنگ احزاب۔ان پچاس میں سے ۴۲ میں کوئی اسیر نہیں ہوا۔جن آٹھ میں اسیر ہوئے ان میں سے قابل ذکر تعداد جنگ بدر کے اسیروں کی ہے۔کل ۷۲ اسیر تھے جن میں سے دو پرانے جرموں کی پاداش میں قتل کئے گئے اور باقی سب کو فدیہ لے کر آزاد کر دیا گیا۔ان میں سے بعض کا فدیہ یہ تھا کہ انصار بچوں کولکھنا سکھا دیں۔جنگ احد میں کوئی دشمن قید نہیں ہوا نہ ہی جنگ احزاب میں کوئی قید ہوا۔غزوہ بنی مصطلق میں سو سے او پرزن ومردا سیر ہوئے مگر سب کو بلا معاوضہ و بلا شرط آزاد کر دیا گیا۔اس کے علاوہ چند ایک سریوں میں ایک ایک دو دو قیدی ہاتھ آئے جو بلا معاوضہ و بلا شرط رہا کئے گئے۔یہ سب حقائق وہ ہیں جو خود مولا نا کو بھی تسلیم ہیں۔مگر میں کہتا ہوں کہ اگر بفرض محال یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ یہ سب جنگی قیدی بزور شمشیر مسلمان بنا لئے گئے تھے تو بھی ان کی تعداد اتنی قلیل اور نا قابل ذکر ہے کہ اس کی مہاجرین اور انصار کے سواد اعظم کے مقابل پر کوئی بھی حیثیت نہیں اور اس کو بنیاد بنا کر وہ نتیجہ بہر حال مترتب نہیں ہوتا جو مولانا مودودی نے مرتب فرمایا ہے۔یہ انہیں زیب نہیں دیتا۔ایسی باتیں تو ان متعصب معاندین کا شیوہ ہے جو اپنے بغض باطنی سے مجبور ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر الزام تراشی کے لئے تنکوں کے