مذہب کے نام پر خون — Page 270
۲۷۰ مذہب کے نام پرخون حفظ مراتب کو محوظ رکھتے ہوئے جہاں تک محبت الہی اور محبت رسول کا تعلق ہے ایک امر کی وضاحت ضروری ہے اور وہ یہ کہ کوئی پیمانہ ایسا موجود نہیں ہے کہ جس سے کسی کے دل میں پائی جانے والی محبت اور احترام کو مانپا جا سکے۔محبت الہی اور محبت رسول میں سرشار رہنے والے ایک عارف کے جذبات محبت کی صحیح عکاسی دنیا کی کسی بھی زبان کے الفاظ میں نہیں ہوسکتی۔صوفیائے کرام نے جو اللہ اور رسول کی محبت میں سرشار تھے اپنے جذبات محبت کو الفاظ کا جامہ پہنانے میں دیوان کے دیوان بھر دیئے اور اس کام میں اپنی زندگیاں لگادیں لیکن ان کی محبت کی اصل گہرائی اور گیرائی کو ان کا خدا جانتا تھا یا وہ خود۔ملاں جذبات محبت میں ڈوبی ہوئی منظوم حمد یا نعت کو پڑھ تو سکتا ہے لیکن بغور پڑھنے کے با وجودان جذبات کی گہرائی میں اتر نہیں سکتا اسی لئے وہ اس کے صحیح مفہوم کو سمجھنے سے قاصر رہتا ہے۔یہ محض اتفاق نہیں تھا کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا نام غلام احمد تھا۔فی الحقیقت آپ تھے ہی احمد صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام۔سبحان اللہ کیا ہی بڑا اعزاز اور کیا ہی بڑا مرتبہ تھا اور کیا ہی بلند شان تھی احمد کی اس غلامی کی جو منجانب اللہ حضرت بانی سلسلہ کو عطا ہوئی۔اس کا کچھ اندازہ آپ کے تین اشعار سے لگایا جاسکتا ہے۔آپ نے اپنے ان تین اشعار میں دو قسم کے معترضین کو بہت ہی شاندار جواب دیا ہے۔ان میں سے ایک تو وہ معترضین ہیں جو آپ پر رسول اللہ لی اللہ علیہ وسلم کی بہتک کا الزام لگاتے ہیں اور دوسرے وہ معترضین ہیں جو پروفیسر کینٹ ول سمتھ کی طرح مسلمانوں پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ محبت الہی کو چنداں اہمیت نہیں دیتے۔آپ ان ہر دو قسم کے معترضین کو جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں :- بعد از خدا بعشق محمد مخمرم گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم کے خدا تعالیٰ کے بعد میں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں مخمور ہوں اور اگر یہی کفر ہے تو خدا کی قسم میں سخت کافر ہوں۔لے قربان تست جانِ من اے یار محسنم با من کدام فرق تو کر دی کہ من کنم سے ۱۸۹۱ء حضرت مرزا غلام احمد کی تصنیف ”ازالہ اوہام جلد اوّل صفحہ ۱۷۶ - امرتسر ۱۹۱ آئینہ کمالات اسلام تصنیف حضرت مرزا غلام احمد قادیانی ۱۸۹۳ ء آخری صفحہ