مذہب کے نام پر خون — Page 269
۲۶۹ مذہب کے نام پرخون جنون کی حد تک پہنچی ہوئی شعلہ باز عصبیت فوراً ابھر کر سامنے آجائے گی لے ، مسلمانوں کے تشخص اور مزاج کے بارہ میں پروفیسر کینٹ ول سمتھ کا یہ اندازہ درست نہیں ہے۔انہوں نے بعض مخصوص واقعات سے عمومی نتائج اخذ کر کے اور انہیں قاعدہ کلیہ کی شکل دے کر سارے ہی مسلمانوں کو اس کی لپیٹ میں لے لیا ہے۔دراصل پروفیسر کینٹ ول سمتھ نے بعض ملاؤں اور مخصوص اغراض کی حامل سیاسی لیڈرشپ کی کارستانی اور اس کے شاخسانے کو عمومی رنگ دے دیا ہے۔یہ دونوں طبقے ( مذہبی ملاں اور مخصوص اغراض کے حامل سیاسی لیڈر ) اپنی عیاری کی وجہ سے خوب جانتے ہیں کہ مسلمانوں کے جذبات کسی موضوع پر اس قدر آسانی اور تیزی و تندی سے برانگیختہ نہیں کئے جاسکتے اور ان کے غیظ و غضب کو بیدار نہیں کیا جاسکتا جس قدر رسول پاک صلعم کی حقیقی یا خیالی تو ہین پر کئے جاسکتے ہیں کے یہ دونوں طبقے اس بات سے فائدہ اٹھا کر جذبات کو بھڑ کانے کے اصل ذمہ دار ہوتے ہیں۔بلاشبہ امیر اور غریب، پڑھے لکھے اور ان پڑھ، نیک اور بدسارے ہی مسلمان محبت رسول کے بارہ میں یکساں جذبات رکھتے ہیں۔یہ امرایسا ہے کہ اس کے متعلق ان کے درمیان کسی اختلاف کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔سب ہی کے نزدیک فنافی الرسول کے مقام کو روحانی مجاہدہ میں نقطۂ عروج کی حیثیت حاصل ہے اور کوئی مسلمان بھی اس حقیقت سے بے خبر نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بلند ترین روحانی تجربہ معراج کے نام سے موسوم ہے جس میں آپ گروہ در گروہ فرشتوں کے جلو میں روحانی ارتفاع کی منزلیں طے کرتے ہوئے حضرت احدیت میں اس مقام رفیع تک جا پہنچے کہ جہاں جبرائیل علیہ السلام کو بھی رسائی کی اجازت نہ تھی لیکن اقتدار کی بھوکی مسلم قیادت (لیڈرشپ ) مسلمانوں کے اس متفقہ عقیدہ سے فائدہ اٹھاتے اور ان کے جذبات کو برانگیختہ کرتے وقت اس امر کو عمد افراموش کر دیتی ہے کہ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ ( یعنی محمد اللہ کے رسول ہیں ) مسلمان کے ایمان کا دوسرا جزو ہے پہلا اور سب سے مقدم جزو بہر حال لا إلهَ إِلَّا اللہ ہے جس کے معنی ہیں اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔لے اسلام ان ماڈرن انڈیا مصنفہ پروفیسر کینٹ ول سمتھ لاہور ، سیکنڈ ایڈیشن ۱۹۴۷ء منیر انکوائری کمیشن رپورٹ اردو تر جمہ صفحہ ۲۷۶