مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 20 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 20

مذہب کے نام پرخون جاتا اور کہتا کہ ابھی بس نہ کرو اور مرتدین کی مسجدیں مسمار کر دو جن کے اسلام کا کوئی جز تمہارے اسلام سے مختلف ہے اور ان کے مردوں کو بھی قتل کر دو اور ان کی عورتوں کو بھی کیونکہ فتنہ ارتدا دکومٹانے کا بس یہی ایک روحانی طریق ہے۔خدارا اپنے دلوں کو ٹولو اور جواب دو کہ کیا کوئی بھی مسلمان ایک لمحے کے لئے یہ تصور کر سکتا ہے؟ نہیں اور یقینا نہیں۔مجھے اس خدا کی قسم ہے کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور مکہ کی گلیوں کی ایک ایک اینٹ گواہ ہے جن پر مظلوم غلاموں کو ارتداد کی سزا میں مرے ہوئے جانوروں کی طرح گھسیٹا گیا تھا اور صحرائے عرب کی ریت کے سلگتے ہوئے ذرے گواہ ہیں اور وہ جھلستی ہوئی پتھر کی سلیں گواہ ہیں جنہیں ان بے کسوں کی چھاتیوں پر رکھا جاتا تھا کہ یہ اطوار سید ولد آدم کے اطوار نہیں اور یہ اخلاق اس مقدس رسول کے اخلاق نہیں۔اور مجھے قسم ہے اس خدا کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور طائف کی سنگلاخ زمین کا ایک ایک پتھر گواہ ہے جس پر سید ولد آدم کا خون ٹپکا تھا کہ میرے مظلوم آقا نے کبھی مذہب کے نام پر جبر کی تعلیم نہیں دی۔عفت کے نام پر عصمتوں کو لوٹنے کا حکم نہیں دیا اور عبادت کی آڑ میں معبدوں کو مسمار کرنے پر انگیخت نہیں کیا۔پھر کیوں نہ میری آنکھ شرم سے جھک جائے اور کیوں نہ میرا دل درد سے بھر جائے کہ اسی مقدس ذات کی طرف منسوب ہونے والے آج بھی ایسے بے درد را ہنما موجود ہیں۔