مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 86 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 86

۸۶ مذہب کے نام پرخون مسلمان کہلانے والے کا فر ہیں تو بوجہ اس کے کہ انہوں نے یہ کفر اپنے ماں باپ سے ورثہ میں لیا ہے خودمولانا کے نزدیک بھی انہیں مرتد قرار نہیں دیا جا سکے گا بلکہ پیدائشی کا فرشمار ہوں گے۔اس لحاظ سے مولا نا پر یہ بڑی زیادتی معلوم ہوتی ہے کہ ان کی طرف یہ عقیدہ منسوب کیا جائے کہ وہ تمام پیدائشی مسلمانوں کو جن کے ماں باپ بھی ان کے نزدیک کافر ہیں بیک وقت کا فر ہی سمجھتے ہیں اور مرتد بھی۔یہ کس طرح ممکن ہے؟ مجھے خود یہ تسلیم ہے کہ معقولیات کی دنیا میں ایسا ہونا ناممکن نظر آتا ہے لیکن اگر معقولیات کی دنیا ہی نہ ہوا گر تشدد کی پادشاہی ہو اور عام عقل انسانی کو مجال نہ ہو کہ وہاں پر مار سکے تو کیا تب بھی ایسا ہونا ممکن نہیں ہے؟ یہاں تو تشدد کی پادشاہی ہے اور معاملات ملک اس دستور کے مطابق طے پاتے ہیں کہ خیر د کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خیر د جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے وو پس اس دستور کے مطابق ہر وہ ” کا فر“ جو مسلمان کہلاتا ہے اور اپنی قسم کے ہی مسلمان کافروں کے گھر میں پیدا ہوا مرتد کہلائے گا اور واجب القتل ہوگا کیونکہ اگر ان کے جان و مال پر دسترس حاصل کرنی ہے تو سوائے اس کے چارہ نہیں رہتا کہ اولاً انہیں پیدائشی مسلمان قرار دیا جائے پھر یہ اصرار کیا جائے کہ وہ بالغ ہونے کے بعد خود ہی کافر ہوئے ہیں کیونکہ ان کے والدین نے ان کی ایک کافرانہ ماحول میں تربیت کی تھی اس لئے یہ سارے پیدائشی مسلمان کا فر“ مرتد ہیں اور واجب القتل ہیں۔دیکھئے ! کیسا عجیب دستور پادشاہی ہے کہ جہاں تک مودودیت اور غیر مودودیت کا تعلق ہے غیر مودودیت کفر ہے مگر جہاں تک اس اختیار کا تعلق ہے کہ ایک پیدائشی کا فرمودودیت کے سوا کوئی اور مذہب اختیار کرلے وہ پیدائشی ” کا فر پیدائشی مسلمان کے حکم میں آ جاتا ہے۔یہ کرشمہ سازی صرف یہیں پر آکر ختم نہیں ہو جاتی بلکہ ایک طرف ایک ایسے ”مرد“ کے قتل کا جواز جو پہلے اپنی مرضی سے کفر چھوڑ کر مسلمان ہوا تھا یہ پیش کیا جاتا ہے کہ جب اسے علم تھا کہ یہ ایک یکطرفہ راستہ ہے اور اس سے واپسی ممکن نہیں تو پہلے مسلمان ہی کیوں ہوا تھا۔تو دوسری طرف ایک