مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 87 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 87

مذہب کے نام پرخون پیدائشی مسلمان سے تبدیلی مذہب کا حق یہ کہ کر چھین لیا جاتا ہے کہ اگر چہ یہ درست ہے کہ اس مجبور انسان کا اپنی پیدائش کے حالات پر کچھ اختیار نہیں تھا اور تقدیر الہی سے بندھا بندھا یا ایک مسلمان گھر میں پیدا ہو گیا تھا۔مگر پھر بھی اسے تبدیلی مذہب کی اجازت نہیں دی جاسکتی کیونکہ اس طرح تو بڑی مشکل پڑ جائے گی۔چنانچہ انہی لا یخل مسائل کی گتھیاں سلجھاتے ہوئے مولا نا فرماتے ہیں:۔لا اکراہ فی الدین کے معنی یہ ہیں کہ ہم کسی کو اپنے دین میں آنے کے لئے مجبور نہیں کرتے اور واقعی ہماری روش یہی ہے! مگر جسے آکر واپس جانا ہوا سے ہم پہلے ہی 66 خبر دار کر دیتے ہیں کہ یہ دروازہ آمد و رفت کے لئے کھلا ہوا نہیں ہے لہذا اگر آتے ہو تو یہ فیصلہ کر کے آؤ کہ واپس نہیں جانا ہے ورنہ براہ کرم آؤ ہی نہیں۔“ مجھے لا إكراه فی الدین کی یہ تفسیر پڑھ کر اہل قرآن کے لیڈر پرویز صاحب کا وہ فقرہ یاد آ جاتا ہے جس میں انہوں نے دوسرے الفاظ میں مودودی صاحب کے اس نظریہ کو یوں بیان کیا ہے:۔مودودی صاحب کا اسلام بھی گویا ایک چوہے دان ہے ”آ تو سکتا ہے چوہا مگر جا نہیں سکتا۔غالباً پرویز صاحب کی یہی ستم ظریفیاں ہیں جو انہیں مودودی نظر میں اس قدر مقہور و مغضوب بنارہی ہیں ) مگر قطع نظر اس امر کے اس تفسیر میں مولانا نے اس آیت کریمہ کا عملاً مذاق اڑایا ہے اگر کوئی نادان یا مجبور اس فیصلہ کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہوئے یہ سوال کر بیٹھے کہ درست ہے جو آپ نے فرمایا مگر حضرت میں خود آیا نہیں لایا گیا ہوں۔میں تو پیدا ہی مسلمانوں میں ہوا تھا مجھے کیا خبر تھی که یه one way traffic یعنی یکطرفہ راستہ ہے اور مجھ غریب کو کیا خبر تھی کہ مودودی دور حکومت میں پیدا ہوں گا۔تو اس سوال کے مفہوم کو اپنے الفاظ میں دہراتے ہوئے مولا نا ایک عجیب وغریب جواب دیتے ہیں۔مولانا کی ساری عبارت درج ذیل ہے:۔پیدائشی مسلمان اس سلسلہ میں ایک آخری سوال اور باقی رہ جاتا ہے جو قتل مرند کے حکم پر بہت سے دماغوں میں تشویش پیدا کرتا ہے وہ یہ کہ جو شخص پہلے غیر مسلم تھا پھر اس نے باختیار خود اسلام قبول کیا اور اس کے بعد دوبارہ کفر اختیار کر لیا اس سے متعلق تو