مذہب کے نام پر خون — Page 78
مذہب کے نام پرخون امت محمدیہ میں کسی قتل عام کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا اور اس حکم کا اطلاق اسی صورت میں ہوسکتا تھا کہ جب کوئی شخص کسی دوسرے مذہب سے آکر اسلام میں شامل ہو پھر مرتد ہو جائے اور واضح طور پر کہے کہ میں مسلمان نہیں ہوں۔اس پر بھی خود اس نظریہ کے حامل علماء میں سے بعض کا یہ فتویٰ تھا کہ ایسے شخص کو تو بہ کے لئے غیر معین مدت تک مہلت دینی چاہیے۔اس سے یقینی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ ان کی یہ غلط نہی اس خواہش کی بناء پر نہ تھی کہ خلق خدا کی گردنیں ان کے ہاتھ میں آجائیں اور وہ دل کھول کر خدائی کریں۔ہرگز انہیں یہ ذوق و شوق نہیں تھا کہ وہ زبردستی پہلے کلمہ گو مسلمانوں پر کفر کے فتوے لگا کر انہیں کا فر قرار دے لیں پھر قتل مرتد کا عقیدہ دامن میں لے کر گھات لگائے بیٹھے رہیں کہ کب اقتدار ہاتھ میں آئے اور کب ہم مرتدین کے خون کے دریا بہا دیں۔مگر یورپ کی تاریک صدیوں کے رہنمایان مذاہب کی طرح جن کے نزدیک عیسائیت سے ارتداد کی سزا قتل تھی اور عیسائیت سے مراد وہ عیسائیت تھی جو ان کے مکتب خیال کے مطابق ہو۔مودودی صاحب کے نزدیک بھی اسلام سے ارتداد کی سزا قتل ہے اور اسلام سے مراد وہ اسلام ہے جسے مودودی صاحب یا ان کے کوئی جانشین اسلام قرار دیں۔چنانچہ مودودی دور حکومت میں اس امر کا آخری فیصلہ بہر حال کسی مودودی حکمران ہی کے ہاتھ میں ہوگا کہ کون مسلمان اور کون مرتد کے حکم میں آتا ہے۔یہ فیصلہ کیا ہوگا؟ اس سوال کا جواب غیر مشکوک طور پر مولانا کی تصنیفات میں دیا جا چکا ہے۔مگر اس بارہ میں مولانا کے تصورات قلم بند کرنے سے پہلے میں ضروری سمجھتا ہوں کہ حتی الامکان اختصار کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس الزام سے بریت ثابت کروں کہ نعوذ باللہ آپ بھی اس عقیدہ کے قائل تھے کہ اسلام کو چھوڑ کر کوئی دوسرا مذہب اختیار کرنے کی سزا اسلامی قانون میں عمل ہے۔اگر کسی شخص کی طرف کوئی خیال یا فعل منسوب کیا جائے تو طبعاً دل میں ایک سوال اٹھتا ہے کہ کیا وہ دعوی یا فعل اس شخص کے معلوم اخلاق اور شمائل کے مطابق ہے یا نہیں۔اس کسوٹی پر ہم بہت سے امور کو روزمرہ کی زندگی میں پر کھتے ہیں اور اس کا اطلاق صرف انسان پر ہی نہیں بلکہ دنیا کی ہر چیز پر ہوتا ہے۔مثلاً اگر کوئی آپ سے کہے کہ میں نے جنگل میں ایک گھوڑا دیکھا جو شیر کو چیر پھاڑ کر کھا رہا