مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 79 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 79

۷۹ مذہب کے نام پرخون تھا یا ہرن کا ایک بچہ دیکھا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے ایک چیتے پر حملہ کر کے اس کے ٹکڑے اڑا دیئے تو آپ ایک لمحہ کے لئے بھی یہ باور نہیں کر سکتے کہ ایسا ہی ہوا ہوگا کیونکہ یہ دعوی گھوڑے اور ہرن کی معلوم خصلت کے صریحاً خلاف ہے۔اسی طرح یہ قتل مرتد کا عقیدہ ظاہراً ایک ایسا غیر طبعی اور غیر منصفانہ فعل ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اس نظریہ کو بہر حال منسوب نہیں کیا جاسکتا۔آپ کا تو پیغام ہی یہی تھا کہ دنیا والے اپنے تمام مذاہب چھوڑ کر آپ کا مذہب قبول کر لیں پھر آپ خود کس طرح تبدیلی مذہب پر کسی قسم کے جبر کو روا ر کھنے کی اجازت دے سکتے تھے۔جب لوگ کوئی دوسرا مذہب چھوڑ کر آپ کے مذہب میں داخل ہوتے تھے اور اس جرم کی پاداش میں ان کو مارا یا ستایا جاتا تھا تو آپ اسے صریح ظلم قرار دیتے تھے اور انسان کی آزادی ضمیر کے خلاف ایک سخت غیر منصفانہ اقدام سمجھتے تھے۔پھر یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ سب عادل انسانوں سے بڑھ کر عدل کرنے والا اور سب منصفوں سے زیادہ منصف مزاج اپنے معاملہ میں اس معیار کو بالکل فراموش کر ڈالے جب لوگ کسی کو تبدیلی مذہب پر ماریں تو انہیں سخت ظالم قرار دے اور جب اپنا مذہب چھوڑ کر کوئی دوسری طرف جائے تو اس کے قتل کا فتویٰ جاری کرے۔اس قسم کی پالیسی تو کسی دنیا کے سیاست دان کی طرف منسوب کرنا بھی اس کی سخت ہتک سمجھی جاتی ہے کجا یہ کہ اسے سب نبیوں کے سردار حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کیا جائے۔اس کے علاوہ اگر آپ کے عمومی خلق کی طرف بھی جس کی بعض جھلکیاں پہلے گزر چکی ہیں نگاہ کی جائے تو اس عقیدہ کو آپ کی طرف منسوب کرنے کی گنجائش نہیں رہتی۔جس طرح سورج سے متعلق خواہ ہزار دلائل دیئے جائیں کوئی یہ تسلیم نہیں کر سکتا کہ وہ روشنی کی بجائے تاریکی برساتا ہے اسی طرح اس انسان کامل کی طرف یہ غیر فطری فعل منسوب کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔لیکن اگر کوئی کہے کہ یہ سرے سے نا انصافی ہے ہی نہیں تو اس کا جواب میرے پاس سوائے ایک سخت حیران خاموشی کے اور کچھ نہیں۔دوسرا امر قابل غور یہ ہے کہ قرآن کریم جو مذاہب کی تاریخ پیش کرتا ہے اس پر ایک نظر ڈالنے سے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ انبیائے گزشتہ میں سے ایک نے بھی کبھی ارتداد کی سزا موت یا جلا وطنی تجویز نہیں کی۔اس کے برعکس بلا استثناء ان کے تمام مخالفین نے ارتداد کی سزا موت یا جلا وطنی تجویز کی