مذہب کے نام پر خون — Page 77
مذہب کے نام پرخون قتل مرتد مودودی نظر میں مولانا کی حصول اقتدار کی تمنا ہر قید و بند سے آزاد ہے اور ہر میدان میں ان کی متشد دطبیعت کے پہلو بہ پہلو جولانی دکھاتی ہے۔ان کا قتل مرتد کا عقیدہ بھی اسی کا کھلایا ہوا ایک گل ہے اور اپنے مخصوص طریق کے مطابق یہ اس عقیدہ کو بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کرتے ہیں۔چنانچہ اس موضوع پر ایک رسالہ ”مرتد کی سزا اسلامی قانون میں قلم بند فرمایا ہے جس میں نہایت دلیری سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس نظریہ کو منسوب کیا ہے اور حضرت ابوبکر کی اس فوج کشی سے نظیر پکڑی ہے جو آپ نے منکرین زکوۃ کی بغاوت فرو کرنے کے لئے فرمائی تھی۔جہاں تک مولا نا کے پیش کردہ نقلی اور عقلی دلائل پر تفصیلی بحث کا تعلق ہے یہ امر ایک علیحدہ کتاب کا متقاضی ہے۔پس میں یہاں اس کے چند ایک پہلوؤں کے ذکر پر ہی اکتفا کروں گا۔اگر چہ یہ درست ہے کہ اور بھی علماء اسلام نے جو یقیناً نیک دل اور صاف نیت تھے اس مسئلہ میں ٹھو کر کھائی ہے مگر ان کی ٹھوکر اور مولانا مودودی کی ٹھوکر میں ایک بھاری فرق ہے اور میں پہلے اسی فرق کی طرف ناظرین کی توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں۔ان علماء کی غلطی محض ایک فقہی غلطی تھی اور ان کے نفس کے تشدد کا اس میں کوئی دخل نہ تھا۔چنانچہ باوجود اس کے کہ وہ دیانتداری سے اس بات کے قائل تھے کہ اسلام میں مرتد کی سزا قتل ہے ان کے ہاں مسلمان کی تعریف ایسی وسیع تھی کہ اس سے