مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 62 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 62

۶۲ مذہب کے نام پرخون اپنے ہاتھ میں لے کر ڈنڈے کے زور سے اصلاح خلق کے وہ وہ کام کر دکھا ئیں کہ جو ان سے پہلے کبھی کسی راستباز نبی سے بھی سرانجام نہ پائے تھے۔یہی وہ دھن ہے جس کے نتیجہ میں وہ ٹھوکر پر ٹھوکر کھاتے ہیں اور دھند کی طرح یہ ان کی راہ میں حائل ہو کر انہیں وادی وادی بھٹکاتی پھرتی ہے بلکہ بسا اوقات ہلاکت کی ان راہوں تک جا پہنچاتی ہے جن پر آدم سے لے کر آج تک دشمنان حق ہمیشہ چلتے رہے ہیں۔اسی دھن کے زیر اثر کبھی تو وہ قتل مرتد کے عقیدہ کے قائل ہو کر ان ازلی ابدی ظالموں کے مسلک کی تائید کرتے ہیں جنہوں نے انبیاء علیہم السلام اور ان کی جماعتوں کی محض اس لئے مخالفت کی تھی کہ وہ اپنے پہلے دین سے پھر چکے تھے اور کبھی وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں تلوار پکڑا کر اشاعت اسلام کو نعوذ باللہ اسی تلوار کا مرہون منت قرار دیتے ہیں اور چونکہ تلوار کی ضرورت نصیحت کی افادیت کو باطل ثابت کرتی ہے یا یوں کہہ لیجئے کہ اگر نصیحت کی افادیت کو تسلیم کر لیا جائے تو تلوار کی ضرورت باقی نہیں رہتی اس لئے مودودی صاحب تلوار باقی رکھنے کے لئے نصیحت کی افادیت سے انکار کرنے پر مجبور ہیں۔زیر نظر باب میں مودودی صاحب کے یہی نظریات قارئین کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں جو نصیحت کو فضول اور بے کار شے قرار دے کر مذہب میں تلوار کے استعمال کے لئے ایک وجہ جواز تراشتے ہیں۔چنانچہ مودودی صاحب فرماتے ہیں:۔ان کو آپ محض پند و نصیحت سے چاہیں کہ اپنے فائدوں سے ہاتھ دھولیں تو یہ کسی طرح ممکن نہیں۔ہاں اقتدار ہاتھ میں لے کر آپ بجبر ان کی شرارتوں کا خاتمہ کر دیں لے “ بظاہر یہ اصلاح کا ایک نہایت کارآمد طریق نظر آتا ہے۔خصوصاً پند و نصیحت کے دشوار گزار رستوں کے مقابل پر اس طریق کی آسانی اپنے اندر ایک گونہ کشش رکھتی ہے۔کہاں تو اصلاح خلق کی خاطر درویشانہ نصیحت کرتے ہوئے در بدر کی ٹھوکریں کھانا اور ہر در سے دھتکارے جانا مگر پھر بھی ایک ایسے دیوانے عاشق کی طرح بے مثال صبر اور ہمت کے ساتھ اپنے مسلک پر قائم رہنا جس کا نعرہ ہر آزمائش کے وقت یہی ہوتا ہے کہ :۔لے حقیقت جہاد صفحہ ۱۰