مذہب کے نام پر خون — Page 63
۶۳ مذہب کے نام پرخون یہ تو نے کیا کہا ناصح نہ جانا کوئے جاناں میں ہمیں تو راہرووں کی ٹھوکریں کھا نا مگر جانا اور کہاں تلوار کے زور سے آن واحد میں جوق در جوق لوگوں کو صالح مسلمان بنادینا؟ اول الذکر طریق کی مشکلات کو مؤخر الذکر طریق کی آسانی کے ساتھ کوئی بھی نسبت ہے؟ طریق اول یعنی نصیحت اختیار کر کے کوئی جانتے بوجھتے ہوئے کیوں وہ کٹھن راہیں اختیار کرے جن پر قدم مارنے کا نتیجہ سوائے اس ذلت ورسوائی کے کچھ نہیں ہوتا جو اس سے پہلے ناصحین کے دیکھتے نصیبوں میں لکھی جاتی رہی اور جس کا ذکر قرآن کریم ان الفاظ میں بیان فرماتا ہے:۔انَّ الَّذِينَ أَجْرَهُوا كَانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ وَ إِذَا مَرُّوا بِهِمْ يَتَغَا مَرُونَ - وَإِذَا انْقَلَبُوا إِلَى أَهْلِهِمُ الْقَلَبُوا فَكِهِينَ وَ إِذَا رَأَوْهُمْ قَالُوا إِنَّ هُؤُلَاءِ لَضَالُونَ - وَمَا أُرْسِلُوا عَلَيْهِمْ حَفِظِينَ (المطففين : ۳۰تا۳۴) ترجمہ:۔یقیناً مجرم لوگ مومنین سے تمسخر کیا کرتے تھے۔اور جب ان کے پاس سے گزرتے تھے تو تحقیر آمیز اشارے کرتے تھے اور اپنے اہل وعیال کی طرف اتراتے ہوئے لوٹتے تھے اور جب ان کو دیکھتے تھے تو کہتے تھے یقینا یہی لوگ ہیں جو پکے گمراہ ہیں حالانکہ وہ ان پر داروغہ مقرر نہیں کئے گئے تھے۔غالباً یہی وجہ ہے کہ مودودی صاحب ہر گز اس اصل کے قائل نہیں کہ اصلاح خلق کی خاطر خواہ مخواہ ایسی پر مشقت زندگی اختیار کی جائے جس کا نتیجہ جگ ہنسائی اور رسوائی کے سوا کچھ نہ ہو۔لوگ ہنسی مذاق کا نشانہ بنائیں۔سر مٹکا ئیں اور آنکھوں سے اشارے کریں کہ ان دنیا کی اصلاح کرنے والوں کو تو دیکھو کہ جن کے پاس نصیحت کے سوا کوئی ہتھیار نہیں اور کمزوری کا یہ حال ہے کہ ہم جب چاہیں انہیں اپنے پاؤں تلے روند ڈالیں اور دعوے یہ ہیں کہ ہم محض نصیحت کے ذریعہ دنیا کے دل جیت لیں گے۔غرضیکہ یہ تمسخر اور تحقیر کرتے ہوئے لوگ اپنی طاقت کے گھمنڈ میں اتراتے ہوئے اپنے گھروں کولوٹ جایا کریں اور جب کبھی بھی ان ناصحین کا ذکر آئے وہ ان کو سخت گمراہ اور راہ حق سے بھٹکے ہوئے قرار دیا کریں۔پھر ایسی نصیحت کا بھلا کیا فائدہ؟ مفت کی رسوائی اور ذلت کے سوا