مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 61 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 61

۶۱ مذہب کے نام پرخون غیروں کو بھی حسن کے سوا کچھ نظر نہیں آیا ؟ اس الجھن کے تین ہی حل میری سمجھ میں آتے ہیں:۔اول یہ کہ یہ غلامی کے سب دعوے غلط ہوں اور حقیقتاً مولا نا کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دور کا بھی تعلق نہ ہو۔گزشتہ باب میں جو کچھ گزر چکا ہے اگر اسے دیکھ کر کوئی دوست یہ نتیجہ بھی اخذ کر لیں تو بے جا نہ ہوگا۔مگر میں سمجھتا ہوں اتنی دور جانے کی ضرورت نہیں کسی بھی مسلمان کہلانے والے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمد ادشمنی کا الزام ایک بہت ہی سنگین الزام ہے اور خواہ کیسے ہی قرائن موجود کیوں نہ ہوں کم از کم میری طبیعت کسی دشمن پر بھی الزام لگانے کے لئے تیار نہیں۔میں خود اس مظلوم فرقہ سے تعلق رکھتا ہوں جس کے قلوب میں اگر چہ اس محبوب ترین نبی کے لئے اتھاہ اور بے پناہ محبت کے سوا کچھ نہیں مگر پھر بھی ظالموں کی طرف سے اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دشمنی کا الزام لگایا جاتا ہے۔اس لئے میں یہ جانتے ہوئے کہ اس الزام کا زخم کتنا گہرا اور دردناک ہوتا ہے مودودی صاحب پر یہ الزام لگانے سے اجتناب کرتا ہوں۔دوم :۔دوسراصل یہ ہو سکتا ہے کہ مودودی صاحب کی نظر عیب و ہنر کے ادراک کے قابل ہی نہ ہو اور جس طرح بعض لوگ کلر بلائنڈ COLOUR BLIND ہوتے ہیں اور بعض رنگوں میں تمیز نہیں کر سکتے مودودی صاحب بھی اخلاق کے حسن و فتح میں تمیز کرنے کی اہلیت نہ رکھتے ہوں۔یہ امر قرین قیاس ہے بلکہ عین ممکن ہیں کہ جہاں تک اخلاقی قدروں کا تعلق ہے مولانا کی قوت ممیزہ امکانی حل میں مضمر ہے۔سوم:۔اردو میں ایک محاورہ ہے دھن سوار ہونا جسے انگریزی میں اویسیشن (OBSESSION) کہا جاتا ہے یعنی دل و دماغ پر ایک خیال کا ایسا چھا جانا کہ دائیں بائیں آگے پیچھے کی ہوش نہ رہے۔انسانی نظر و فکر کی یہ ایک انتہائی مہلک بیماری ہے جو تپ دق کی طرح اس کی صلاحیتوں کو کھوکھلا کر دیتی ہے اور اپنے ساتھ اور بہت سی نظری بیماریاں لے آتی ہے۔بدقسمتی سے مودودی صاحب بھی اسی مرض کا شکار ہو چکے ہیں اور دھن ان پر یہ سوار ہے کہ خلق خدا کی گردنیں