مذہب کے نام پر خون — Page 40
مذہب کے نام پرخون سے پھوٹنے لگا مگر ایک مرتبہ بھی اس عظیم روحانی انقلاب کے دوران میں داعی اسلام کو آلات جنگ کی ضرورت پیش نہ آئی۔کیا وہ بعد کے آنے والے مسلمان جو اسلام کے ایک عام روحانی غلبہ کے بعد مسلمان ہوئے ان ستاروں کی خاک پا کے برابر بھی تھے؟۔۔۔مولا نا! آپ کہاں چلے گئے اور کن ویرانوں میں بھٹک گئے ؟ سینے کہ میں خدا کی عظمت اور جلال کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دین اپنی اشاعت کے لئے کسی دوسرے سہارے کا محتاج نہ تھا۔آج بھی نہیں ہے، آئندہ بھی کبھی نہ ہو گا۔یہ آپ نے کیا کہا کہ تلوار کا کام ” قلبہ رانی“ ہے۔اور یہ آپ نے کیا کہہ دیا کہ تلوار قبول ہدایت سے پہلے دلوں کے زنگ کو دور کرتی ہے۔کیا آپ فطرت انسانی کی الف بے سے بھی واقف نہیں؟ کیا آپ اس کھلی ہوئی حقیقت سے بھی آشنا نہیں کہ تلوار سچائی کے بیچ کے لئے قلبہ رانی نہیں کرتی بلکہ خود نفرت اور بغاوت کے بیچ ہوتی ہے اور فطرت انسانی کے انگ انگ کو زہر آلود کر دیتی ہے۔نہیں نہیں۔اسلام ہرگز تلوار کے زور سے دلوں پر قبضہ نہیں کرتا بلکہ خود اپنی ذات میں ایک کامل روحانی طاقت ہے جو اپنے حق کے زور سے ہر سرکش سے سرکش سر کوخم کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔بتائیے کہ عمر کا سرکس نے ختم کیا تھا؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلوار نے یا سورہ طلہ کی چند آیات کی تلاوت نے؟ مولا نا کو اپنے اس متشد د نظریہ کی تائید میں کہ اسلام تنہا نہیں بلکہ تلوار کے سہارے سے ہی پھیل سکتا ہے تاریخ اسلام سے اگر کوئی دور کی گواہی مل سکتی ہے تو وہ صرف یہ کہ جب اسلام کو فتح مکہ کے بعد سیاسی غلبہ نصیب ہو گیا اور جنگ حنین نے حملہ آور دشمنوں کی رہی سہی طاقت بھی ختم کر دی تو اسلام بڑی تیزی سے پھیلنے لگا۔یہ ہے وہ تنہا تاریخی دلیل جس کے کھونٹے پر یہ سارا نظریہ ناچ رہا ہے۔آیئے ہم کچھ دیر کے لئے اس دلیل کو تسلیم کر کے دیکھیں کہ ان بعد کے آنے والے مسلمانوں کے دلوں کو تلوار نے کس درجہ زنگ سے پاک کیا تھا۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ یہ وہی بعد کے آنے والے تھے جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد سب سے پہلی خدمت اسلام یہ کی که اسلامی حکومت کے خلاف ایک عام علم بغاوت بلند کر دیا اورلشکر در لشکر مرکز اسلام کی طرف چڑھ