مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 39 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 39

۳۹ مذہب کے نام پرخون نے دھوئے تھے اور کس تلوار نے بلال حبشی کے دل میں توحید کا نور داخل کیا تھا ؟ پھر وہ تلوار کونسی تھی جس نے زید بن حارث اور زبیر بن العوام کو مسلمان کیا ؟ اور وہ کونسی تلوار تھی جو حمزہ اور طلحہ کے دل کو ایمان بخش گئی ؟ عبد الرحمن بن عوف اور ابو عبیدہ بن عبد اللہ ، عثمان بن مظعون اور سعد بن ابی وقاص کے دل کس تلوار کی آب سے مصفی کئے گئے ؟ اور وہ سارے مہاجرین اور وہ سارے انصار جن کی تعداد ہزار تک جا پہنچتی ہے اور جن سے متعلق خود مولانا کو بھی تسلیم ہوگا کہ ان کے قبول اسلام میں کسی تلوار کے دخل کا شائبہ تک نہیں پایا جاتا۔کس طرح تطہیر قلوب کے اس ضروری ہتھیار کے بغیر پاک دل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔کس طرح ان کے زنگ کھرچے گئے اور نیا رنگ چڑھانے کے لئے دل صقیل کئے گئے ؟ مولانا ! تاریخ اسلام پر ایک نظر ڈال کر بتائیے کہ کیا یہ درست نہیں کہ یہ مہاجرین وانصار جن کے قبول اسلام میں تلوار کے دخل کے آپ بھی منکر ہوں گے۔یہی تو وہ اسلام کا پھل تھے جو پھل لگانے کے لئے بانی اسلام دنیا میں تشریف لائے ، یہ وہی تو ہیں جنہیں اسلام کا رسول فخر کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کر سکتا تھا کہ اے بنی آدم ! یہ ہیں وہ کائنات کا خلاصہ جسے پیدا کرنے کے لئے کائنات کو خلعت وجود بخشی گئی ، یہی ہیں جنہیں آسمان ہدایت کے ستارے کہا گیا اور انہیں میں کچھ تھے جن سے متعلق بدر کے میدان میں پیغمبر اسلام نے روروکر خدا کے حضور دعا کی کہ اللَّهُمَّ إِن أَهْلَكْتَ هَذِهِ الْعِصَابَةِ فَلَنْ تُعْبَدَ فِي الْأَرْضِ أَبَدًا ”اے اللہ ! اگر اس جماعت کو تو نے ہلاک ہونے دیا تو زمین میں پھر کبھی تیری عبادت نہ کی جائے گی۔“ میہ وہی عباد کی سرتاج جماعت تھی جن کے دل رب العرش کی تخت گاہ بن گئے اور سینے خدا کے ذکر سے معمور ہو گئے۔یہ کون لوگ تھے اور یہ سب کچھ کیسے ہوا؟ کیا یہ وہی عرب کے بسنے والے آزاد منش نہ تھے جن کے دل الا ما شاء اللہ قبول اسلام سے پہلے طرح طرح کی بدیوں کے پھندے میں گرفتار تھے اور شرک کا زنگ ان پر تہہ بہ تہہ چڑھا ہوا تھا جنہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روحانی پانی سے دھویا اور پاک وصاف کیا۔پھر ان کے ظاہر و باطن کو خدا تعالیٰ کے رنگ میں خوب رنگین کر دیا یہاں تک کہ یہ رنگ ان کی روح کی گہرائیوں تک اتر گیا اور ایسا وافر ہوا کہ پیشانیوں