مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 38 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 38

۳۸ مذہب کے نام پرخون مقدس نام پر اس الزام کے ساتھ جست لگاتے ہیں لیکن جب معجزات کی ناکامی کے بعد داعی اسلام نے تلوار ہاتھ میں لی اور معاوہ سب کچھ کہہ ڈالتے ہیں جواب تک سینہ میں دبا پڑا تھا (افسوس کہ اس مقام سے پہلے اگر مولانا کے قدم تمسخر کی حدود میں اٹھ رہے تھے تو اس چھلانگ کے ساتھ ہی صریح ظلم وستم کی حد میں داخل ہو جاتے ہیں ) اور اپنے مخصوص رنگ میں رات کو دن اور دن کو رات بتاتے ہوئے اشاعت دین کے اسی خونی تصور کو عین راستی اور حق دکھاتے ہیں۔آخری نتیجہ ان تمام سیاہ کئے ہوئے صفحات کا یہ نکلتا ہے کہ:۔و جس طرح یہ کہنا غلط ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے لوگوں کو مسلمان بناتا ہے اسی طرح یہ کہنا بھی غلط ہے کہ اسلام کی اشاعت میں تلوار کا کوئی حصہ نہیں ہے۔" کچھ دیکھا آپ نے کہ کہاں سے چلے تھے اور کہاں جا نکلے۔کس غرض سے تلوار پکڑی تھی اور کہاں استعمال ہونے لگی ؟ مولا نا کی اس ڈپلومیسی کو دیکھ کر خود بخود ذہن ان ممالک کی طرف منتقل ہو جاتا ہے جو اپنے دفاع کی غرض سے ہتھیار لے کر جارحانہ مہمات میں استعمال کرنے لگتے ہیں۔مولا نا کو اختیار ہے کہ جو چاہیں کریں اور جس طرح چاہیں سوچیں۔صرف اتنی احتیاط لازم تھی کہ حاسد دشمن کے لئے جو پہلے دن سے ہی اسلام اور داعی اسلام پر بشدت حملہ آور ہے اور موقع کی تلاش میں ہر آن چوکس و ہوشیار ہے خود اپنے ہاتھ سے قلعے کے دروازے نہ کھول دیتے ! اگر مولانا نے قرآن وحدیث کا مطالعہ نہ کیا ہوتا یا انہیں تاریخ اسلام کی کچھ بھی واقفیت نہ ہوتی تو میں اس خیال سے تسلی پالیتا کہ جو کچھ کہہ رہے ہیں لاعلمی میں کہہ رہے ہیں مگر افسوس کہ یہ کہنے کی بھی گنجائش باقی نہیں۔علم سب اپنی جگہ پر ہے اور سب کچھ جان رہے ہیں لیکن باوجود اس کے کہ تاریخ اسلام کا ایک ایک ورق ، ایک ایک لفظ اس نظریہ کو جھٹلا رہا ہے کہ اشاعت اسلام میں تلوار کوکوئی ذرہ بھر بھی دخل تھا۔اسی نظریہ پر مصر ہیں اور ببانگ دہل مصر ہیں اور نہیں بتا سکتے کہ اگر دلوں کے زنگ دھونے کے لئے تلوار ایسی ہی ضروری تھی تو ابو بکر اور عمر اور عثمان اور علی کے دلوں کے زنگ کس تلوار الجہاد فی الاسلام صفحہ ۱۳۸