مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 37 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 37

۳۷ مذہب کے نام پرخون آخری حد ہے اور اس کے بعد پھر ان کی جان و مال پر کوئی حملہ نہیں کیا جاسکتا خواہ وہ اسلام قبول کریں یا نہ کریں لے “ قارئین اب تک میرے اس تمہیدی بیان کا مطلب بخوبی سمجھ چکے ہوں گے کہ غیر آزاد عقل کو جب علم پر کچھ دسترس حاصل ہو تو وہ دنیا کے سامنے عجیب مضطرب اور مہلک نتائج پیش کرتی ہے۔تمسخر کی انتہاء ہے کہ ابتداء تو اس بیان سے شروع ہوتی ہے کہ اسلام ایک آزادی ضمیر کا مذہب ہے اور اسلامی جنگوں کی غرض صرف یہ تھی کہ مخالفین کی طرف سے مذہبی آزادی کو کچلا جارہا تھا۔وسط میں جا کر یہ نظریہ پیش کیا جاتا ہے کہ دراصل اسلام کے دو حصے ہیں اچھی باتوں کا حکم دینا اور بری باتوں سے روکنا۔بزور اچھی باتوں کا حکم دینا تو چونکہ آزادی ضمیر کے خلاف ہے اس لئے اسلام ایسا نہیں کرتا مگر بری باتوں کو چونکہ کسی صورت برداشت نہیں کر سکتا اس لئے دنیا کے کونے کونے سے بزور شمشیر مٹانے کے لئے جنگ کا حکم دیتا ہے اور آخر پر نتیجہ اس کا یہ نکلتا ہے کہ چونکہ بری باتوں کو مٹانے کی غرض سے جنگ کی گئی تھی اس لئے اسلام جزیہ لے کر راضی ہو جاتا ہے اور پھر ان کی جان و مال پر کوئی حملہ نہیں کیا جاسکتا خواہ وہ اسلام قبول کریں یا نہ کریں۔یہاں پہنچ کر مولا نا کونصف اسلام یعنی بری باتوں سے روکنا بھی بالکل بھول جاتا ہے کیونکہ جز بیل گیا اور اصل غرض و غایت پوری ہوگئی۔چنانچہ یہ ذکر کرنا بھی یاد نہیں رہتا کہ اس جگہ اسلام قبول کرنے یا نہ کرنے سے کیا مراد ہے۔امر بالمعروف اور نہی عن المنکر دونوں یا دونوں میں سے ایک۔آخری چھلانگ لیکن ابھی تک بھی مولانا اپنے مافی الضمیر کو پوری طرح ادا نہیں فرما سکے اور ایک آخری چھلانگ لگانی باقی ہے۔مودودی فکر یہ سوچ ہی نہیں سکتا کہ اشاعت اسلام کو تلوار سے کوئی واسطہ نہ ہوا اور تشدد کے بغیر بھی کوئی مذہب دنیا میں پھیل سکے۔چنانچہ قال کی غرض و غایت جزیہ حاصل کرنا بیان فرما کر یہ ثابت فرمانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اشاعت اسلام کے لئے تلوار بہر حال ناگزیر تھی۔چنانچہ انگریزی کے اس محاورہ کے مطابق کہ بلی بیگ سے باہر نکل آئی“ CAT IS OUT OF THE BAG دل کی بات آخر با ہر نکل ہی آتی ہے اور مولانا اچانک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الجہاد فی الاسلام صفحہ ۹۳